تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 437 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 437

۴۳۷ اقرار و اعتراف کیا بلکہ اس کے خلاف اُٹھنے والی بعض مخالف تحریکات کے مذہبی اور سیاسی خدموال بھی پوری طرح بے نقاب کر ڈالے جو صداقتِ احمدیت کا منہ بولتا نشان تھا۔اس سلسلہ میں اخبار المنبر (لائل پور) کے چند ادارتی نوٹ درج کئے جاتے ہیں : (1) - " ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں سے اکثر تقویٰ ، تعلق باشد، دیانت خلوص، علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی۔مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی ، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری۔مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی مولانا عبد الجبار غزنوی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری اور دوسرے اکا یہ رجیم الله وغفر لہیم کے بارے میں مہارا احسن خلق یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر ورسوخ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگرچہ یہ الفاظ سننے اور پڑھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبارات و رسائل بھی چند دن اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر ( نور اللہ مرقدهم و بر مضاجعهم ) کی تمام کا دشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں۔گذشتہ ہفتہ روس اور امریکہ کے دو سائنس دان یہ کوہ وارد ہوئے ) اور دوسری جانب ۱۹۵۳ر کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود۔قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا ۱۹۵۶۵۶ء کا بجٹ پچیس لاکھ ۲۵,۰۰۰ ) کا ہو۔(1904-0