تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 434
۴۴۳۴ بنیاد رکھی گئی جس کی ابتدا میں بعض مقامی لوگوں نے مخالفت کی۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ رودک غیر احمدی شرفاء کی مداخلت سے بہت جلد دور ہو گئی۔یہ کو بھی حضرت صاحبزادہ مرزا نا صراح صاحب چئیر مین صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی نگرانی میں شہوار کے وسط آخر میں نہایت تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچیں۔کو مٹی کا نقشہ سید سردار حسین شاہ صاحب نے تیار کیا۔اور اس کے حسابات کی خدمت کردم ملک فضل عمر صاحب مولوی فاضل نے سرانجام دیے نخلہ میں حضور کی کوٹھی کے علاوہ مندرجہ ذیل عمارات بھی تعمیر کی گا (۱) مسجد۔(۲) دفتر پرائیویٹ سیکرٹری۔(۳) بیر کسی برائے پہریداران (۲) کوارٹرز برائے صاحبزادگان حضرت مصلح موعود - (۵) کوارٹرز برائے ناظر صاحبان و وکلاء حضرات تحریک جدید (4) بیر کس برائے غیر ملکی طلباء۔(۷) کوارٹر برائے ڈسپنسری وڈسپنسر - (۸) کوارٹر برائے نخلہ - (۹) گیسٹ ہاؤس برائے جامعہ نصرت کہ وہ لیے نتخلہ کے ماحول کو خوشگوار اور پر فضا بنانے کے لئے ایک باغ بھی لگا یا گیا جس میں ولایتی شریفہ ، یوکلپٹس ، مالٹا ، آلوچہ ، آڑو، امرود، انگور، انجیر اور فالسہ کے پوڈ لگائے گئے۔تخلہ کی قیام گاہوں میں روشنی اور منکھوں کے لئے جبر پیر نصب کیا گیا جو محمد اکرام اللہ صاحب ملتان چھاؤنی کے ذریعہ جہتا ہوا۔وائرنگ کے لئے نصرت کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں جبس کے نگران صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور مینجر چوہدری غلام حسین صاحب تھے۔تخلہ کے پرانے ریکارڈ کے مطابق سید نا حضرت مصلح موعود تعمیرات کا معائنہ کرنے کے لئے نخلہ میں پہلی بار ۲۵ جون شاء (احسان ) کو رونق افروز ہوئے۔اور ایک رات کے قیام کے بعد مری تشریف لے گئے۔اس ابتدائی سفر کے بعد حضور ہر سال جابہ میں تشریف لے جاتے رہے۔آخری بار حضور نے اور جولائی ۹۶۲ہ رونا رہ ) کو سفر نخلہ اختیار فرمایا اور قریباً اڑھائی ماہ تک قیام فرما نہ ہنے کے بعد اور ستمبر نے رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ریوه ۵-۱۹۹۷ یه ۱۲۱۰ }