تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 433 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 433

۴۴۳۳ مذہبی معابد موجود ہیں اور ہندوستان میں ہر مذہب کے انسان کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہے۔تو کیا افغانستان میں احمدیوں کا مذہبی غنڈوں کے ہاتھوں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جانا چاہیے۔انصاف پسند دنیا کی نظروں میں قابل در گزر قرار دیا جاسکتا ہے جس پر افغانستان کے موجودہ بادشاہ کنگ ظاہر شاہ اور ان کی گورنمنٹ کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہم چاہتے ہیں کہ کنگ ظاہر شاہ اور ان کی گورنمنٹ احمدیوں کی حفاظت کا ذمہ لے تا کہ وہاں آئندہ کسی شخص کو بھی اس تنگ انسانیت فعل کی جرات نہ ہو اور وہاں ہر مذہب کے لوگ دوسرے ممالک کی طرح آزادی اور اطمینان کے ساتھ زندہ رہ سکیسی فصل مفتیم شید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعودة نخلہ کے نام سے ایک نئی بستی کی بنیاد۔تقسیم ہند سے قبل تبدیلی آب و ہوا کے لئے اکثر پالم پور اور ڈلہوزی تشریف لے جایا کرتے تھے۔کیونکہ یہ پہاڑی مقامات ایک تو زیادہ بلندی پر واقع نہیں ہیں۔دوسرے ان کی آب و ہوا معتدل ہونے کے باعث حضور انورہ کے مزاج مبارک کے موافق تھی۔قیام پاکستان کے بعد اس مقصد کے لئے مری میں خیبر لاج حاصل کی گئی مگر مری موزوں جگہ ثابت نہ ہوئی۔اس لئے حضور کی ہدایت پر جابہ ضلع سرگودہا (حال ضلع خوشاب ) کے قریب اس سال کے شروع میں نخلہ کے نام سے ایک اضافی بستی کی بنیاد رکھی گئی نخلہ کی زمین نواب مسعود احمد خان صاحب کی ملکیت تھی۔تعمیرات سے پہلے اس جگہ دو چھو لداریاں نصب کی گئیں جو سرگودہا سے کرائے پر حاصل کی گئی تھیں۔سب سے پہلے حضرت مصلح موعود کی کوٹھی کی ہفتہ وار ریاست دہلی ۲۵ جون ۶۱۹۵۶ *