تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 432
بعد " " جرم میں پھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا اور وہاں کے کئی احمدی جو افغانستان کے باشندے تھے۔افغانستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ افغانوں اور انگریزوں کی جنگ (اس وقت کے کمانڈر انچیف افغانستان کے موجودہ بادشاہ ظاہر شاہ کے والد نادر خان تھے ) کے بعد صلح کے سلسلے میں افغان لیڈروں کا ایک ڈیپوٹیشن ہندوستان آیا جس میں افغانستان کے وزیر اعظم محمود طرزی اور ایک ہندو وزیر بھی شامل تھے تو احمدیوں کا ایک وفد اس ڈیپٹومیشن سے ملا اور اس وفد کی قیادت افغانستان کے ایک احمدی نیک محمد خان کر رہے تھے جو غزنی کے گورنر میر احمد خان کے بیٹے تھے۔یہ وفد جب افغان لیڈروں اور وزراء سے ملا تو ہندو وزیر نے نیک محمد خان سے پوچھا کہ تم تو افغانستان کے باشندے معلوم ہوتے ہو۔تم احمدیوں کے دند میں کیونکہ شامل ہوئے۔تو نیک محمد خان نے جواب دیا کہ آپ غزنی کے گورنہ میر احمد خان کے بیٹے ہیں اور احمدی ہونے کے جرم میں ہجرت کر کے ہندوستان آچکے ہیں۔اس ہندو وزیر نے جب پیشنا کہ یہ گورنر میر احمد خاں کے لڑکے ہیں تو آپ ضبط نہ کر سکے اور آپ روتے ہوئے نیک محمد خاں سے بغل گیر ہو گئے کیونکہ گورنہ میر احمد خاں اس ہندو وزیر کے گہرے دوستوں میں سے تھے اور کہا کہ تم واپس افغانستان آجاؤ تمہیں افغانستان میں کوئی کچھ نہ کہہ سکے گا اور افغان گورنمنٹ تمہاری حفاظت کرے گی۔چنانچہ اس ہندو وزیر اور افغانستان کے وزیر اعظم محمود طرزی (جو ایشیا کے ممالک میں ایک بہت بڑے سیاست دان اور کنگ امان اللہ کے خسر تھے ) نے احمدیوں کو حفاظت کا یقین دلایا اور یہ واقعہ ہے کہ حفاظت کے اس یقین دلانے کے بعد افغانستان کی گورنمنٹ نے افغانستان کے احمدیوں کی حفاظت بھی کی۔مگر اس کے بعد احمدیوں کے خلاف افغانستان کے ملاؤں نے جب یہ شور پیدا کیا تو کنگ امان اللہ نے بغاوت سے خوفزدہ ہو کہ ایک احمدی مولوی نعمت اللہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور یہ پبلک میں سنگسار کئے گئے۔سوال یہ ہے کہ حالات کے بدلنے کے بعد جب کہ یہ قرار دے لیا گیا ہے کہ دنیا میں ہرشخص کو مذہبی اور سیاسی خیالات رکھنے کا حق حاصل ہے۔امریکہ جیسے سرمایہ پرست میں کمیونسٹ کہ سکتے ہیں منصر میں عیسائیوں کو مسلمانوں جیسے حقوق حاصل ہیں۔جاپان، چین اور برما جیسے بدھ مذہب رکھنے والے ممالک میں عیسائی اور مسلمان رہ سکتے ہیں۔روس میں بھی مساجد اور