تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 431 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 431

داؤد جان کی شہادت سے تعلق دہلی کے ہفت روزہ "ریاست نے دار جان حساب مرحوم کی شہادت سے متعلق حسب ذیل ادارتی نوٹ اخبار ریاست کا اداریہ سپر د اشاعت کیا :- " افغانستان میں مذہبی آزادی احمدیوں کی سنگساری قابل توجه کنگ ظاہر شاہ چند روز ہوئے افغانستان کے ملاؤں اور مذہبی دیوانوں نے کابل کے جیل خانہ پر حملہ کر کے ایک افغان داؤد جان کو جیل سے نکال کر اس کو ہلاک کر دیا۔جس کے حالات یہ ہیں۔داؤد جان احمدی خیالات کے تھے اور وہ پچھلے سال احمدیوں کے سالانہ جلسہ میں شامل ہوتے کے لئے ربوہ (ضلع جھنگ پاکستان گئے۔اس جلسہ میں شامل ہونے کے بعد یہ جب واپس کابل پہنچے تو وہاں کے مذہبی ملاؤں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ احمدیوں کے سالانہ جلسے میں شامل ہونے کے لئے ربوہ گئے تھے۔داؤد جان ایک نیک اور مذاہبی شخصیت تھے۔جو جھوٹ بولنا گناہ سمجھتے تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں آپ ربوہ گئے تھے۔ان کے ربوہ جانے کے مجرم میں ان ملاؤں نے افغان گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ داؤد جان کو گرفتار کر کے ان کو سزا دی جائے۔چنانچہ افغانستان کی گورنمنٹ کے حکم سے آپ گرفتار کئے گئے۔اور ابھی آپ پر مقدمہ نہ چلایا گیا تھا کہ مذہبی ملا بے صبر ہو گئے اور انہوں نے مذہبی غنڈوں کو ساتھ لیکر کابل جیل پر حملہ کیا۔داؤد جان کو جیل سے نکالا اور جیل سے باہرے جا کہ ان کو ہلاک کر دیا۔یہ واقعہ نہ صرف افغانستان میں مذہبی آزادی کے جنازہ کا ثبوت تھا۔اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ افغان گورنمنٹ لا اینڈ آرڈر کے اختیار سے کسی طرح مفلوج ہے جہاں کہ لوگ قیدیوں کو جیل سے بھی جبرائے جا سکتے ہیں۔افغانستان کے اس واقعہ بالکلہ کے متعلق اب کابل کی تازہ اطلاع ہے کہ افغان گورنمنٹ نے ان تمام لوگوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جو جیل پر حملہ کر کے دادو جان کو ہلاک کرنے کا باعث تھے۔افغانستان میں مذہبی آزادی کا عدم وجود نیا واقعہ نہیں۔جو کچھ آج کابل میں ٹوا آج سے بہت برس پہلے کنگ امان اللہ کے زمانہ میں بھی ہو چکا ہے جہاں احمدیوں کو اختلاف مذہب کے