تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 427 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 427

۴۲۷ تھے جو خوست کے رہنے والے تھے۔انہوں نے بھی اس کی مدد کی۔چنانچہ نادر شاہ نے ان دونوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھا اور وزیریوں کے اس لشکر کے ذریعے شاہی فوج کو شکست دی اور افغانستان کے تخت پر قابض ہو گیا۔فتح کے بعد اس نے احمدیوں سے کہا کہ تم افغانستان واپسی چلو میں تمہیں آزادی دُوں گا۔لیکن جب کچھ مدت تک انتظار کرنے کے با وجود احکام جاری نہ ہوئے تو احمدی دوست نادر شاہ سے ملے اور اسے اس کا فرعدہ یاد دلایا۔نادر شاہ نے کہا مجھے اپنا وعدہ خوب یاد ہے۔لیکن اگر موجودہ مخالفت کے دور میں میں نے احکام جاری کر دیئے تو مجھے خوف ہے کہ افغان کہیں مجھے ہی نہ مارہ ڈالیں۔آپ کچھ دیر صبر کریں مناسب موقع ملنے پر میں احکام جاری کر دوں گا۔پھر چند ماہ اور گذر گئے۔لیکن پھر بھی حکومت کی طرف سے کوئی احکام جاری نہ ہوئے۔اس پر ہمارے احمدی دوست پھر نادر شاہ سے ملے۔اور کہا کہ اب تو ہم تنگ آچکے ہیں آخر آپ کب احکام جاری فرمائیں گے۔کچھ دیر سوچنے کے بعد نادر شاہ نے کہا کہ مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔نہیں تمہارے خلاف حکومت کے پر اپنے حکم کی تائید کر دیتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی نہیں یہ حکم بھی دے دیتا ہوں کہ اگر کسی نے دوسرے شخص پر کوئی ایسا الزام لگایا جس کی سزا موت ہوئی اور وہ تحقیقات کے بعد جھوٹا ثابت ہوا تو الزام لگانے والے کو بھی موت کی سزا دی جائے گی۔اس نے عام لوگوں پر قیاس کرتے ہوئے خیال کیا کہ جب کسی شخص کو یہ پتہ لگ جائے گا کہ اب اسے موت کی سزا ملنے والی ہے تو وہ احمدی ہونے سے انکار کر دے گا اور دوسری طرف الزام لگانے والا ڈرے گا کہ اگر تحقیقات پر اس نے احمدی ہونے سے انکار کر دیا تو مجھے موت کی سزائے گی۔چنانچہ واقعہ میں ایسا ہی ہوا۔اس اعلان کے نتیجہ میں لوگ ڈر گئے کہ اگر ہم کسی کو قادیانی کہیں گے اور وہ موقعہ پر قادیانی ہونے سے انکار کر دے تو ہمیں موت کی سزا ملے گی۔اس کے نتیجہ میں احمدی بے دھڑک وہاں رہنے لگ گئے انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔ظاہر شاہ کے وقت میں بھی ایسا ہوا کہ اگر کسی والی نے احمدیوں کو پکڑ لیا اور اُن سے رشوت طلب کی تو بادشاہ نے نہ صرف انہیں آزاد کروا دیا بلکہ والی نے اگر کچھ روپیہ لے لیا تھا تو وہ بھی واپس دلوا دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ اسلام کے اثر کی وجہ سے ہے۔چاہے اُن کے ملک میں کتنی غیر آئینی ہے مگر چونکہ وہ مسلمانوں کی نسل سے ہیں اس لئے ان میں کسی حد تک نیکی کا مادہ موجود