تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 426
بیٹے ہیں۔اس وند کے نمبر تھے، جو ہم نے منصوری بھیجا۔افغان و قد میں محمود طرزی صاحب بھی تھے جو امان اللہ خاں کے شہر تھے اور حکومت افغانستان کی طرف سے پیرس میں سفیر بھی رہ چکے تھے۔اور ایک ہندو وزیر تھے۔جو اس وقت حکومت افغانستان کے وزیر خزانہ تھے۔ہندو وزیر نے نیک محمد خاں کو دیکھتے ہی کہا تم تو پٹھان ہو تم یہاں کیسے آئے ہو۔انہوں نے کہا میں احمدی ہوں آپ کے ملک میں امن نہیں تھا اس لئے میں یہاں آگیا۔وزیر نے کہا تم کہاں کے رہنے والے ہو۔انہوں نے کہا۔میں غزنی کا رہنے والا ہوں اور وہاں کے گورنہ میر احمد خاں صاحب کا بیٹا ہوں۔ہندو وزیر روتے ہوئے نیک محمد خاں صاحب سے بغل گیر ہوگیا اور کہنے لگا تم میر احمد خان کے بیٹے ہو اور یہاں پھر رہے ہو۔میر احمد خاں تو میرا بھائی تھا تمہیں افغانستان میں کون کچھ کہہ سکتا ہے تم اپنے وطن میں واپس آجاؤ۔میں تمہاری حفاظت کروں گا محمود طرزی صاحب نے بھی کہا کہ اگر تم افغانستان آجاؤ تو تم پر کوئی سختی نہیں ہوگی۔میں خود نگرانی کروں گا تم ایک درخواست بھیج دو W تو میں تمہاری واپسی کا انتظام کروں گا۔چنانچہ ہم نے مولوی نعمت اللہ خانصاحب کو جو پہلے افغانستان میں موجود تھے محمود طرزی صاحب سے ملنے کے لئے کہا۔اور انہوں نے حسب وعدہ احمدیوں کی بعض تکالیف کا ازالہ کر دیا۔اس موقع پر ہمارے مبلغ نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کر دیا تھا پبلک پر بھی ظاہر کر دیا۔شروع میں تو امان اللہ خانصاحب نے دلیری دیکھائی اور جہاں کہیں احمدیوں پر سختی ہوتی تھی۔وہ خود فون کے ذریعے اسے روکتا اور کہتا کہ ہمارے ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔لیکن بعد میں مولویوں سے ڈر گیا اور مولوی نعمت اللہ خان کو سنگسار کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔لیکن خدا تعالے نے امان اللہ خان کو بغیر سزا کے نہ چھوڑا جب نادر شاہ نے بر سر اقتدار آنا چاہے تو لات گا اس سے ہمیں ہمدردی تھی مگر نادر شاہ کو فوج نہیں ملتی تھی۔اُس نے خیال کیا۔اگر وزیری اس کے ساتھ مل جائیں تو اسے فتح کی امید ہوسکتی ہے۔چنانچہ وہ سرحد پر آیا اور اس نے وزیریوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔وہاں ایک احمدی حکیم تھے۔جن کا وزیر یوں پر اثر تھا۔انہوں نے نادر شاہ کے حق میں وزیر یوں میں پروپیگنڈا کیا۔چنانچہ آہستہ آہستہ وزیری اس کے ساتھ شامل ہونے لگے اور تھوڑے عرصہ میں ہی ایک بڑا لشکر تیار ہوگیا، ایک اور احمدی نوجوان بھی وہاں