تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 425 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 425

۴۲۵۔فرمایا جس میں افغانستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی نسبت اپنا یہ تجربہ بتا یا کہ ان میں اسلام کے اثر کے ماتحت خدا ترسی کا زیادہ بہتر نمونہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ آپ نے پہلے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں حکومت افغانستان پر کوئی حرف نہیں آتا۔ازاں بعد فرمایا :- " حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو شہید کیا گیا اور ملک میں احمدیوں کے خلاف جوش پیدا ہو گیا تو کچھ احمدی وہاں سے بھاگ کر هند دوستان آگئے مجھے یاد ہے امان اللہ خان سابق شاہ افغانستان تخت پر بیٹھا تو اس نے انگریزوں سے لڑائی کی اور اتفاق ایسا ہوا کہ اس لڑائی میں پٹھانوں کا پلہ بھاری رہا۔عام طور پر سمجھا جاتا تھا کہ انگریزوں کے مقابلہ میں بیٹھانوں کی طاقت کچھ بھی نہیں۔لیکن میں نے ان دنوں رویا میں دیکھا کہ اگر انگریزوں نے اس محاذ جنگ پر اپنے چوٹی کے افسر نہ بھیجے تو انہیں شکست ہوگی۔نادر شاہ جو موجودہ شاہ افغانستان کے والد تھے ، وہ افغان فوج کے جبر نہیں تھے۔انہیں خدا تعالے نے تو فیق دی اور انہوں نے کامیابی کے ساتھ انگریزوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔اتفاق کی بات ہے کہ اس لڑائی کے کچھ عرصہ بعد شملہ گیا تو وہاں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم سیکرٹری نے مجھے چائے پر بلایا۔اس وقت کے چیف آف دی جنرل سٹاف بھی ان کے ساتھ تھے۔باتوں باتوں میں میں نے انہیں اپنی رویا سنائی۔اس پر چیف آف دی جنرل نشاف بے اختیار بول اُٹھے کہ آپ کی رؤیا بالکل درست ہے اور میں اس کا گواہ ہوں، میں اِن دنوں فوج کا کمانڈر تھا جو پٹھانوں سے لڑ رہی تھی۔ایک دن پٹھان فوج ہمیں دھکیل کر اتنا پیچھے اتنا پیچھے لے گئی کہ ہرتی شکست میں کوئی شبہ باقی نہ یہ ہاتھا۔اور ہمیں مرکز کی طرف سے یہ احکام موصول ہو گئے تھے کہ فوجیں واپ لے آؤ۔چنانچہ ہم نے اپنا سامان ایک حد تک واپس بھیج یا تھا۔لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ پٹھان فوج کو ہماری فوجی طاقت کے متعلق غلطی لگ گئی اور وہ آگے نہ بڑھی اگر وہ آگے بڑھ آتی تو افغان فوج ڈیرہ اسمعیل خان تک ہمیں دھکیل کر لے آتی۔اور ہمارے ہاتھ سے پنجاب بھی نکل جاتا۔اس لڑائی کے بعد افغانستان کا ایک وفد منصوری آیا۔میں نے اپنا ایک وفد منصوری بھیجا تاکہ وہ افغان نمائندوں سے گفتگو کر سکے۔انہوں نے کہا کہ آخر ہمارا کیا قصور ہے کہ آپ کے ملک میں ہمارے آدمی مارے جاتے ہیں۔نیک محمد خاں صاحب جو غزنی کے گورنہ میر احمد خانصاحب کے۔