تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 424
حضرت مصلح موعود نے شہید مرحوم کا جنازہ غائب ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ بر کو نماز جمعہ کے بعد پڑھایا اور مرحوم کا یوں تذکرہ کیا۔یہ مخلص دوست جلسہ پر ربوہ آئے تھے۔واپس گئے تو بعض لوگوں نے اُن کی شکایت حکام میں کر دی۔انہوں نے بلا کہ دریافت کیا کہ کیا تم ربوہ گئے تھے تو انہوں نے کہا ہاں نہیں دیاوہ گیا تھا۔اس پر انہیں قید کر دیا گیا۔مگر ان کی قوم کی اس سے تسلی نہ ہوئی۔چنانچہ ایک بڑے زیر دست ہجوم نے قید خانہ پر حملہ کر دیا اور اس کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں اور پھر انہیں نکال کرنے گئے اور کھلے میدان میں کھڑا کر کے شہید کر دیا۔مرنا تو سب نے ہے لیکن اس قسم کی موت بہت دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتی ہے اور مارنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔انصُرُ أَخَاكَ ظَايعا او مَظْلُومًا کہ تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ایک صحابی نے پوچھا یا رسول نہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آگئی ہے لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے۔آپ نے فرمایا ظالم کو ظلم سے روکو یہی اس کی مدد ہے۔نہیں تم دعائیں کمرو کہ اللہ تعالے ہماری جماعت کی حفاظت فرمائے اور جن لوگوں نے یہ غلطی کی ہے انہیں بھی ہدایت دے۔تا بجائے اس کے کہ وہ احمدیوں کے خلاف تلوار اٹھائیں اُن کے دل احمدیت کے نور سے منور ہو جائیں اور انہیں نیکی کی راہوں پر چلنے کی توفیق نصیب ہو۔سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح لاہور امین اسلامی ممالک کی نسبیت حریم صلی و ور کے اثرات یا خود ہمیشہ مسلمان ملک کی تمادو الموعود ہی ترقی بہبود کے لئے کوشاں رہتے تھے اور ان کی نیک شہرت کے خواہاں بھی تھے۔داؤد جان کے بہیمانہ قتل کے واقعہ سے چونکہ بیرونی دنیا میں حکومت افغانستان کی بدنامی کا خدشہ تھا۔اس لئے حضور نے ور مارچ شہداء کو شہید مرقوم کی نمازہ جنازہ پڑھاتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ ان کی شہادت میں افغانستان کا ہرگز کوئی دخل نہیں۔ازاں بعد ۳۰ ر ماله په ۱۹۵۶ء کو ایک مفصل خطبہ ارشاد ل روزنامه الفضل ربوه ۱۳ را پریل ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۳ تا ره -