تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 423 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 423

۴۴۲۳ قابل ذکر ہیں۔آپ موضع جاجی ضلع پختیمہ صوبہ کابل کے رہنے والے تھے اور علاقہ کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اپنے خاندان میں اکیلے اور نہایت مخلص احمدی تھے جو تھوڑا ہی عرصه قبل ربوہ میں آکر حضرت مصلح موعود کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے تھے۔آپ دسمبر 110 کے طلبہ سالانہ ربوہ میں شامل ہوئے اور ربوہ میں مجاہد اور نیو ڈاکٹر بدرالدین صاحب مرحوم کی کوٹھی واقع دارالصدر شمالی ربوہ میں ایک ماہ تک قیام کیا۔واپسی پر لوگوں کو جب اس بات کا علم ہوا کہ آپ ربوہ گئے تھے۔انہیں پکڑ لیا گیا اور علاقہ کے حاکم نے مطالبہ کیا کہ اسے موت کی سزا دو، مگر حاکم علاقہ تو شریف انسان تھے۔اُن کے دل میں رقم تھا انہوں نے کہا کہ میں اس کے قتل کی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے۔جب لوگوں نے دیکھا کہ حاکم اسے مارنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے قید خانہ پر حملہ کر دیا۔اس کے دروازے توڑ دیئے اور داؤد جان کو قید خانہ سے نکال باہر کیا اور دریافت کیا کہ وہ گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ پاکستان گیا تھا۔انہوں نے کہا ہاں میں گیا تھا۔اس پر انہیں کھلے میدان میں کھڑا کر کے گولی مار کر شہید کر دیا گیا ہے یہ دردناک واقعہ کسی تاریخ کو پیش آیا۔اس کے بارے میں کوئی قطعی رائے نہیں دی جاسکتی۔البتہ بعض قرآن کی رو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ضروری نام کے آخری ایام تھے۔مرحوم کی کمر بوقت شہادت قریباً تیس سال تھی۔مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیوہ محترمہ گل بی بی صاحبہ) - ایک بیٹی رامینہ خاتم اور تین بیٹے (غازی جان ابراہیم جان - گل جان) یادگار پھوڑے۔حادثہ و شہادت کے بعد پسماندگان کو بھی بہت سے آلام و مصائب میں سے گزرنا پڑا۔جس کی تفصیل بہت درد انگیز ہے۔بینظلوم خاندان بڑی مشکل سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچائے له الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۵۷ء مث و الفضل ۱۴ جون ۱۹۵۶ ص۲ کہ اس دردناک سانحہ کے چند ماہ بعد وسط ماہ جون ۹۵۶ہ میں افغانستان میں ایک ہلاکت آفرین زلزلہ آیا جواتنی شدید نوعیت کا تھا کہ دریاؤں نے اپنا رخ بدل لیا کٹی نالے نا پید ہوگئے، کابل اور نواحی علاقوں کے ہزاروں مکانات گر گئے چھ سو افراد ہلاک ہوئے مجروحین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔الغرض یہ زالزال قیامت صغری کا نمونہ تھا جو کوسٹر کے ۱۹۳۵ء کے زلزلہ سے بھی شدید اور ہولناک تھا۔