تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 413 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 413

ورم شادی کی بنیاد اخلاق نیکی اور تقوی پر قائم ہونی چاہیئے۔تا جو اولاد پیدا ہو وہ بھی نیک، متقی اور اللہ تعالی کے نام کو بلند کرنے والی ہو چنانچہ فرمایا۔در حقیقت شادی بیاہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بڑھا ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جو کئی سال کے بعد پھل دیتا تھا۔اتفاقاً وہاں سے اس ملک کا بادشاہ گذرا اس نے جب بڑھے کو ایک ایسا درخت لگاتے دیکھا جس کا پھل کئی سال کے بعد پیدا ہونا تھا۔تو وہ اسے کہنے لگا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو تمہاری عمر اسی نوے سال کی ہو گئی ہے اور تم ایسا درخت لگارہ ہے ہو جو کئی سال کے بعد پھل دیتا ہے کیا تمہیں یہ امید ہے کہ اس کا پھل کھاؤ گے وہ کہتے لگا بادشاہ سلامت اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی خیال کرتے اور وہ اپنی زندگیوں میں پھلدار درخت لگا کر نہ جاتے تو آج ہم کہاں سے پھل کھاتے۔انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے ان کا پھل کھایا۔آج ہم درخت لگائیں گے تو ہمارے پوتے پیڑ پوتے ان کا پھل کھائیں گئے۔بادشاہ کو اس کی بات بڑی پسند آئی اور اس نے کہا زہ یعنی تو نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور بادشاہ کا یہ حکم تھا کہ جب نہیں کسی بات سے خوش ہو کہ نہ کہہ دوں تو فورا اسے تین ہزار روپیہ انعام دے دیا جایا کرے۔بادشاہ نے خوش ہو کر زہ کہا تو وزیر نے فورا تین ہزار روپے کی تھیلی اس بڑھنے کے سامنے رکھ دی، وہ روپوں کی تھیلی اپنے ہاتھ میں لے کر کہنے لگا بادشاہ سلامت لوک درخت لگاتے ہیں تو کئی کئی سال کے بعد انہیں اس کا پھل کھانا نصیب ہوتا ہے مگر مجھے دیکھئے کہ میں نے درخت لگاتے لگاتے اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ پھر اس کی بات سے خوش ہوا اور کہنے لگا زہ۔اس پر وزیر نے جھٹ ایک دوسری تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔یہ دیکھ کر بڑھا کہنے لگا حضور آپ تو کہہ رہے تھے کہ تو مر جائے گا، اور اس درخت کا پھل نہیں کھا سکے گا۔مگر دیجھے لوگ تو کہیں سال میں ایک دفعہ درخت کا پھل کھاتے ہیں اور میں نے اس درخت کے لگاتے لگاتے دو دفعہ اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ پھر اس کی بات سے خوش ہوا اور کہنے لگا زہ۔اس پر وزیر نے فوراً ایک تیسری تفصیلی اس کے سامنے رکھ دی۔اس کے بعد وزیر کہنے لگا بادشاہ سلامت یہاں سے چلئے ورنہ اس بڑھے نے تو ہمیں ٹوٹ لینا ہے۔یہی مثال شادی بیاہ کی ہے جو شخص شادی بیاہ کرتا اور پھر اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کرتا ہے وہ دنیا میں