تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 404
اس لئے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ آپ ایسی کسی کارروائی سے احتراز کریں کہ حکومت سپین اپنے آئین کی خلاف ورزی کا الزام آپ پر لگائے۔آپ کا مخلص افضل اقبال - ناظم الامور مکرم ظفر صاحب نے ہسپانوی وزیر خارجہ کو ایک خط لکھا کہ ہمیں دس سال سے سپین میں مقیم ہوں۔اب تک میرے خلاف کوئی شکایت نہیں پیدا ہوئی۔اب حکومت میری سرگرمیوں کو کیوں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے ؟ ہسپانوی حکومت سرکاری طور پر کیتھولک گورنمنٹ ہے اس کا دعوی ہے کہ یہ مذہب سچا ہے جو خدا تعالیٰ سے قائم کرنے کا ذریعہ اور اعلیٰ اخلاق کا حامل ہے۔میری تبلیغ کا مقصد بھی محض اعلیٰ اخلاق کا قیام اور بنی نوع انسان کا خدا تعالیٰ سے حقیقی تعلق قائم کرنا ہے۔نیز آپ نے اس بات پر زور دیا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم مہرگز ملک سپین کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں بلکہ اس سرزمین کی حقیقی فلاح و بہبود کا خواہش مند ہے، خط کا جواب ملا کہ وزیر خارجہ صاحب نے آپ کے خطہ کا اچھا اثر لیا ہے ، دراصل ساری شرارت پادریوں کی ہے کہ انہوں نے پولیس والوں اور حکام کو انگیخت کی ہے لیے حضرت مصلح موعودہ اس اطلاع پر بہت مشوش ہوئے اور حضور نے ۲۰ را پریل ۱۹۵۶ م کو حکومت پاکستان اور دوسری مسلم حکومتوں کو توجہ دلائی کہ وہ اس افسوسناک اقدام کے خلاف احتجاج کریں، نیز فرمایا :- ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سات نوجوان ہمارے مبلغ کے پاس بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ سی آئی ڈی کے کچھ آدمی وہاں آگئے اور انہوں نے کہا کہ تم حکومت کے باغی ہو۔کیونکہ حکومت کا مذہب رومن کیتھولک ہے۔اور ہم نے سُنا ہے تم مسلمان ہو گئے ہو۔ان نوجوانوں نے کہا کہ ہم حکومت کے تم سے بھی زیادہ وفادار نہیں لیکن اس امر کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے انہوں نے کہا دراصل پادریوں نے حکومت کے پاس ایک شکایت کی ہے کہ یہاں اسلام کی تبلیغ کی جاتی ہے اور گورنمنٹ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تمہاری نگرانی کریں۔انہوں نے کہا کہ تم ہمیں دوسرے شه روزنامه الفضل ریوه در جولائی ۶۱۹۵۶ صفحه ۳۔