تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 366
کے فرائض انجام دے رہے تھے۔حضور یکم مٹی شاہ کو لائبیریا سے بذریعہ طیارہ گیمبیا کے لئے روانہ ہوئے۔حضور نے اپنے مختصر قیام کے دوران پہلے ہی روز مملکت کے صدر ولیم ایس دی ٹب مین سے ملاقات فرمائی اور جماعت احمدیہ لائبیریا کی طرف سے حضور کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شہر کے معززین خاصی تعداد میں شامل ہوئے اور حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔اگلے دن ۳۰ ر ا پریل کو بوقت پہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔جس میں اسلام اور احمدیت کے درخشندہ مستقبل پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ازاں بعد حضور کے اعزاز میں صدر مملکت مسٹر ولیم ٹب مین کی طرف سے ایگزیکیوٹومیشن میں وسیع پیمانے پر پر تکلف عشائیے کا اہتمام ہوا۔جس میں وزرائے مملکت، کلیسیا کے بیشپ، بیرونی ممالک کے سفارتی نمائندوں اور دیگر نامور معززین نے شرکت کی۔اس موقع پر صدر سب میں نے استقبالیہ ایڈریس پیش کرتے ہوئے اس امر کا خاص طور پر ذکر فرمایا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کا لائبیریا میں ورود مسعود ہمارے لئے بہت عزت افزائی کا موجب ہے حضور نے جو ایا صدر مملکت اور اہل لائبیریا کو دعاؤں سے نوازا کہ اللہ تعالی انہیں خوشیوں اور مسرتوں سے سدا مالا مال رکھے اور اہل ملک کی خوشحالی میں اضافہ ہوتا رہے لیے پریذیڈنٹ ٹب میں نے اس سرکاری ضیافت کے موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ وہ احد میشیم مش لامیرا کو ایک سو پچاس ایکڑ زمین دے رہے ہیں تا حضرت امام جماعت احمدیہ کے ارشاد کے مطابق جماعت احمدیہ سکول اور ہسپتال تعمیر کر سکے۔یہ زمین منروویا سے سو میل دور سانوئے SANOYEA حاصل ہوئی۔جس پر پہلے مسلم ہائی سکول کی عمارت تعمیر کی گئی جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے۔میں له الفضل ۳ و ۵ مئی ۱۹