تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 307
کی تبلیغی سرگر میوں سے روشناس کرایا اور مختصر سے عرصہ میں جو ترقی کی تھی اس پر روشنی ڈالی۔اپنائیت اور بے ساختہ پن کا احساس اس ماحول میں ایسی نعمت معلوم ہونا تھا جس سے جدا ہونے پہ رنج ہوتا تھا مجھے چلا کہ بڑے بڑے شہروں سے دُور یہ جگہ علم و ادب کا ایک چھپا ہوا مرکز ہے۔وہ جگہ جہاں تعلیم کا ذکر بھی نہ ہوتا تھا۔اب ایک سے زائد کالجوں جن میں سے ڈگری کالج برائے طالبات بھی ہے، کا مستنفر ہے۔مفت طبی امداد بلا امتیاز ہر شخص کو حاصل ہو سکتی ہے۔الفضل ، مصباح اور الفرقان اور رسالہ ریویو آف ربیبی نیز (مذہبی جائزہ ) اور دیگر رسائل کا مرکزہ ہونے کی وجہ سے اس کی صحافتی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے بیشتر ملیکہ تمام رسالے مذہبی قسم کا لٹریچر شائع کرتے ہیں لیکن یہ بعید نہیں کہ جلد ہی ادبی معیار کے لحاظ سے ان میں سے کسی دن کوئی جبر یادہ ملک گیر شہرت حاصل کرے۔آج اگر یہ پوچھا جائے کہ مسلمان جو ہمیشہ سے یہ دعوی کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے اسلام تبلیغ کے زور سے پھیلا یا کسی حد تک اس مقصد کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں تو ہم خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔اگر احمدیوں کی ان کوششوں کو نظر اندازہ کر دیا جائے جو وہ اپنے نظریات پھیلانے کے لئے کر رہے ہیں۔دنیا کے دور افتادہ علاقوں اور سمندر پار کے ملکوں میں ان کے مضبوط ادارے قائم ہیں۔جن کا بیشتر مرکز سے اتنا مستحکم ہے کہ اس پر رشک کیا جا سکے۔اس محدود سی تنظیم کی نگرانی میں برطانیہ ، امریکہ افریقہ ، آسٹریلیا، مراکش اور دوسرے ملکوں میں تبلیغ کا کام پوری تندہی سے جاری ہے ، گلوب کے کونے کونے سے مبلغ ربوہ میں آتے ہیں اور ہدایات لے کہ اپنے اپنے مقاموں کو لوٹ جاتے ہیں۔ان میں سے اکثر لوگوں نے زندگی اس مقصد کے لئے وقف کر رکھی ہے اور خیالات کی اشاعت کے لئے ہر طرح کی تکالیف بصد خوشی برداشت کرتے ہیں۔اس جذبہ کی قدر نہ کرنی حد درجہ نا انصافی ہوگی۔کہا جاتا ہے کہ ہر تحریک جب تک وہ محدود دائروں میں رہتی ہے مضبوط اور پر خلوص ہاتھوں میں رہتی ہے۔لیکن جونہی اس کا دائرہ اثر وسیع ہو جاتا ہے اس میں ہر قسم کی بدعنوانیاں شروع ہو جاتی ہیں۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کسوٹی پر متذکرہ تحریک کسی حد تک پر بھی جا سکتی ہے، لیکن اگر اس کے عقیدت مندون کی تعداد پر بحث نہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ ان میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جن کے لئے معاشرہ میں اصلاح کی جاتی ہے۔معدودے چند افراد کو چھوڑ کر یہ لوگ اپنے عقیدہ میں راسخ مخلص