تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 306
" اس سال ماہ ستمبر میں مہفت روزہ اخبار " پوٹ" (راولپنڈی) کے ایڈیٹر تاثرات ربوہ جناب پیر سید صاحب ربوہ تشریف نے واپسی پر انہوں نے افضل کو نسیم۔درج ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات قلم بند کر کے بھجوائے در اس سے قطع نظر کہ ایک قوم ، فرقے یا گروہ کے عقیدوں میں سچائی کا عنصر کس حدتک ہے یا وہ ناقد کے ذاتی عقائد سے کسی حد تک مشابہت رکھتے ہیں۔یہ امر قابل توجہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا جو اس مخصوص گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔عملی رویہ کیا ہے، کیوں کہ بے عمل حقیقت سے یا عمل کم علمی بہتر ہوتی ہے۔اور ایک مشہور حدیث (بقول بعض قول علی ) ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہتا ہے۔جب اس نظریہ سے تحریک احمدیت سے وابستہ لوگوں کا کر دارہ جانچا جائے تو بلاشبہ ان کے لئے سرعقیدت سے ٹھیک جاتا ہے۔پچھلے دنوں آل پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے مجھے سرگودہا جانے کا اتفاق ہوا۔واپسی پر جب ربوہ اُترا تو اجنبی ہونے کی وجہ سے میں پیش آئندہ وقتوں کے تصور سے مانوس ہو چکا تھا۔اسٹیشن سے متصل ایک چھوٹی سی مسجد سے باہر نکلتے ہوئے ایک ضعیف شخص سے میں نے “ الفضل " کے دفتر کا پتہ پوچھا، جس شفقت اور نرمی سے اس بزرگ نے میرا احوال پوچھا اور مجھے خود دفتر تک پہونچایا۔اس سے خلوص اور محبت کا وہ بین القومی جذبہ جھلک رہا تھا جو کسی بھی حساس دل کو مرعوب کرنے کے لئے کافی ہے۔انسانی اخوت کے اس چھوٹے سے مظاہرے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔میرا ارادہ ربوہ کے کچھ مقامی اخبار نویسوں سے ملنے کا تھا۔الفضل کے دفتر سے تھوڑا آگے نکل کو نظر اٹھائی تو قصر خلافت کی عمارت کو احاطے میں لئے طویل چار دیواری دکھائی دی۔میرا ربوہ آنے کا چونکہ یہ پہلا موقع تھا۔اس لئے محض مٹر گشت کے خیال سے چل پڑا۔ایک چیز جس نے میرے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ربوہ کے مختصر قصبہ میں صفائی کا بندوبست تھا۔بازاروں اور کوچوں کی صفائی کسی اور شہر میں صفائی کا ہفتہ منانے کے دنوں میں بھی نہیں دیکھی جا سکتی۔چھوٹی چھوٹی عمارات جنہیں ماڈرن طرز پر بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور صاف ستھرا ماحول قابل رشک منظر پیش کرتا تھا۔وہاں سے رسالہ مصباح کے دفتر پہونچا تو ایک عزیز نے مجھے خوش آمدید کہا۔چائے کے کپ پر جو گفتگو چھڑی تو اُٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا میر عطا دالکریم کی باتوں میں سادگی اور شیرینی کا حسین امتزاج تھا۔انہوں نے مجھ تحریک احمدیہ