تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 283
۳۸۳ اور دعا کی۔پھر اپنی مرحومہ بیوی والدہ عزیزم عطاء الرحمن ظاہر کی قبر پر دعا کی۔پھر اپنے نانا جان شیخ نظام الدین صاحب آف سٹروعہ کی قبر پر دعا کے لئے گیا۔آخرہ میں اپنی پیاری والدہ ماجدہ رضی اللہ عنہا کی قبر یہ دعا کی۔یہ قبریں بہشتی مقبرہ کے مختلف قطعات میں پھیلی ہوئی ہیں۔اس لئے دُعا کے لئے ساتہ قبرستان کا چکر لگانا ضروری ہوتا ہے اور ء کی ہجرت کے بعد جب بھی مجھے قادیان آنے کا موقع ملا ہے کہیں نے قریباً ہر روز سارے بہشتی مقبرے میں دُعائیں کی ہیں حدیث نبوی کے مطابق زیارت قبور موت کو یاد دلاتی ہے جب یکی بہشتی مقبرے سے واپس آرہا تھا تو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان قوت قدسیہ کا تصور کر رہا تھا۔اس زمانہ میں جب کہ آپ کے خلاف فتویٰ کفر کا زور شور مچا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دوسرے معاند علماء سلسلہ احمدیہ کو مٹانے کے لئے ایٹی چوٹی کا زور لگا رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ہر سے هُمْ يَذْكُرُونَكَ لا عِننين وذكرُنَا فِي الصَّالِحَاتِ يُعَدُّ بَعْدَ فَنَاءِ کہ ان کو تو لوگ بڑے طور پر یاد کیا کریں گے مگر ہمارا ذکر خیر اور ہمارے لئے دعاؤں کا سلسلہ ہماری موت کے بعد بھی جاری رہے گا وایہ کے عظیم انشان انقلاب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر زائرین کا اس طرح مسلسل دعائیں کرتے رہنا آپ کی پیشگوئی کی صداقت کا ناقابل تردید ثبوت ہے اور ادھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ حال ہے کہ ان کی قبر کا بھی کسی کو پتہ نہیں ۱۹۴۷ء سے پہلے ایک دفعہ بڑی مشکل سے اُن کی نشاندہی ہو سکی تھی اور آپ تو اس کا آنا پتہ ہی نہیں ہے۔بہرحال اللہ تعالی نے ان واقعات سے اپنی مستی اور قدرت کا ثبوت دیا ہے " بین امریکین رسالہ لائف میں جماعت احمدیہ کی اس سال میں ان اقوامی شہر کے مال مہنت دار کی شاندار تبلیغی جد و جہد کا ذکر امریکی رسالہ تالف ( E ) نے دنیا " LIFE کے مشہور مذاہب پر درج ذیل اشاعتوں میں کچھ تفصیلی مضامین شائع کئے ہندو مذہب دے فروری) بدھ مت ( ۷ مارچ ) چینی ندا سب (۳ را به بین) اسلام دور مٹی )۔یہودیت (۱۳(جون) - عیسائیت (۲۰/ دسمبر)۔ور مٹی شاء کی اشاعت میں رسالہ لائف نے اسلام پر جو مسود مضمون سپر دا شاعت کیا۔اس کے انخلہ میں اس نے خصوصیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی ان مسائلی کا تذکرہ کیا جو جماعت کی طرف سے ان