تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 282 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 282

جناب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے تاریخ مالا بار کے صفحہ ، پر ان کا بطور خاص ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلافت ثانیہ کے اوائل میں مالا باری احمدیوں کے نمائندے کی حیثیت سے سالانہ جلسہ قادیان پر قادیان بھیجے گئے تھے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے آپ کا تمام حاضرین جلسہ سے تعارف بھی کرایا تھا۔اس کتاب میں اس واقعہ کا سن دسمبر یہ بتایا گیا ہے مگر یہ سہو ہے کیونکہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ان دنوں لندن میں تھے۔پھر یہ کونسا سال ہے ؟ الفضل کے پرانے اور مستند مطبوعہ ریکارڈ سے اس پر کوئی۔وشنی نہیں پڑتی۔اس سال مولانا ابو العطا صاحب جالندھری مدیر مولانا ابو العطا صاب کا سفر قادیان ماہنامہ الفرقان" اپریل کے دوسرے مہفتہ میں ہندوستان تشریف لے گئے۔دورانِ سفر آپ کو قادیان دارالامان کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔واپسی پر آپ نے سفر قادیان کے روح پرور تا ثرات قلم بند فرمائے جو روزنامہ الفضل در مئی اء میں شائع ہوئے جن سے شہواء کے قادیان کی ایک جیتی جاگتی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور تحریک احمدیت کی صداقت پر ایک زندہ ایمان نصیب ہوتا ہے۔آپ نے لکھا:۔بيت الدعا میں چند منٹ گزارنے کے بعد اپنی قیام گاہ پر آیا۔تلاوت قرآن مجید کی اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے بزرگوں کے مزاروں پر اندھا کرنے کے لئے بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوا سارا راسته و هی سکون محسوس ہوا جو ہمیشہ ہوا کرتا تھا میں بعض پیشینگوئیوں پر غور کرتا ہوا بہشتی مقبرے کی سٹرک پر جارہا تھا، میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان بوڑھے بچے اور خواتین دعا کر کے واپس آرہے ہیں اور کچھ دعا کے لئے جا رہے ہیں۔روضہ مبارک پر بھی چند دوست سوز وگدازہ سے دعا کر رہے تھے۔نہیں نے حضرت مسیح مولو علی السلام کے روضہ پر دعا کے بعد اپنے طریق کے مطابق پہلے اپنے اساتذہ حضرت مولاناسید محمد سر درشاہ مانا۔حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت قاضی امیر حسین صاحب اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب کی قبروں پہ ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کی پھر اپنے پیارے اور محسن والد حضرت میاں امام الدین صاحب کی قبر پر گیا۔لے مطبوعہ انوار احمدیہ پریس قادیان شیخ صاحب شاشاء میں مالا بار میں مبالغے تھے اور یہ کتاب آپ نے انہی دنوں تالیف فرمائی تھی۔