تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 16 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 16

14 کے قلم سے درج کی جاتی ہے :۔گورداسپور میں ایک معزز مہند و دوست دیوان کیدار نا تھ صاحب قیام پذیر ہیں تقسیم ملک کے بعد ضلع سیالکوٹ سے آکر بطور پناہ گزین کے گورداسپورینی تقسیم ہوئے۔قادیان کے بعض احمدی دوستوں سے اُن کے اچھے مراسم ہیں۔ایک عرصہ کی بات ہے کہ اُن کو کسی دوست سے اتفاقا حضرت مسیح موعود کا فوٹو مل گیا جو انہوں نے اپنے رہائشی مکان کے ایک کمرہ میں آویزاں کرلیا۔دو ماہ پیشتر و با من وجع المفاصل سخت بیمار ہو گئے۔ان کے گھٹنے اور پاؤں میں ورم ہو گیا اور ہر وقت شدید درد رہنے لگا۔انہوں نے سول ہسپتال گورداسپور اور بعض اور ماہر ڈاکٹروں GOUT سے علاج کروایا ہر قسم کی ادویہ اور ٹیکے استعمال کئے مگر آرام نہ ہوا۔ایک دن جب وہ شدت درد سے بہت بے چین تھے تو حضرت اقدس۔۔۔۔کے فوٹو کی طرف منہ کر کے انہوں نے نہایت تفریع سے دعا کی ابھی وہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ان کو زور سے آواز آئی:۔" تمہارا علاج قادیان میں ہے" اس غیبی آواز کے سننے کے بعد اُن کو یہ یقین ہو گیا کہ قادیان ہی میں جا کر ان کو افاقہ ہوگا چنا نچہ وہ اپنے ایک پڑوسی کے سہارے قادیان پہنچے اور اپنی بیماری کی تفصیل اور قادیان آنے کی وجہ بیان کی۔چنانچہ مکرمی ڈاکٹر بشیر احمد صاحب انچارج احمدیہ شفاخانہ نے ان کا علاج شروع کر دیا ابھی علاج کرتے ہوئے دو دن ہوئے تھے کہ اُن کا درد جاتا رہا اور چند دن میں ورم بھی اُتر گیا اور وہ جلد ہی تقریباً شفایاب ہو کر واپس گورداسپور تشریف لے گئے۔اِس واقعہ کا ذکر وہ اکثر لوگوں سے کرتے رہتے ہیں کہ کس طرح ان کی شدید بیماری قادیان اور اس کے درویشوں کی برکت سے دور ہوئی اور کس طرح غیبی آواز نے اُن کو قادیان جا کر علاج کروانے کی طرف رہنمائی کی۔اِس واقعہ کا لفضلہ تعالیٰ عام سیلیک پر بہت خوشگوار اثر ہوا ہے کالے کے روز نامہ الفضل بیکم جولائی ۹۵۵ه (یکم و فاست ) صفحه ۳ ، ۴ *