تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 253 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 253

۳۵۳ سلسلہ کے اموال میں تو آپ حد درجہ احتیاط برتتے اور کیا مجال تھی کہ ایک پائی کی بھی کمی بیشی ہونے پاتی۔آپ کی ذاتی صفات میں ایک نمایاں صفت آپ کا حلیم الطبع ہونا تھا۔۔۔آپ ہمیشہ علم اور صبر سے کام لیتے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ دین کے معاملہ میں حد درجہ عبور بھی تھے۔سلسلہ کے معاملات میں تو آپ بہت زیادہ غیور تھے اور اگر کسی سے آپ نے کبھی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تصرف ایسے مواقع پر جہاں سلسلہ کی عزت اور وقار کا سوال ہوتا۔آپ نے اپنی زندگی میں متعدد مناظرے اور جلسے بایں عرض کروائے تاکہ سلسلہ کے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں۔آپ خود سلسلہ کے احکامات اور شرعی امور کے سختی سے پابند تھے۔یہی وجہ تھی کہ اگر سلسلہ یا شریعیت کے خلاف عمل کا مظاہرہ دیکھتے تو آپ کو بہت ناگوار گذرتا اور باحسن طریق اس کی اصلاح کی کوشش کرتے۔احکام شریعت اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آپ کو خاصا عبور حاصل تھا۔عزباد کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے اور حتی الامکان ہر غریب اور محتاج کی مدد کرتے۔یہی وجہ ہے حضرت والد صاحب کی وفات کے موقع پر ہر طبقہ کے افراد نے بہت ہمدردی کا اظہار کیا " فصل ششم ام بیس بعض دیگر مخلص اور جانثار یہ سال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب ایم اے کے الفاظ میں ” عام الحزن " تھا جس میں سلسلہ احمدیہ کے بہت خدام احمدیت کی وفات سے جلیل القدر اصحاب کے علاوہ کئی اور مخلص بزرگ اور سلسلہ کے متعدد جانثار خادم انتقال کر گئے۔مثل حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب سابق ناظر دعوت و تبلیغ حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب سابق مبلغ افریقیه و افسر لنگر خانه 1900, له الفضل ، نومی دارد ما مضمون از عطارا النبی صاحب سلیم)