تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 247
۲۴۷ وقار کے ساتھ ملتے تھے کہ وہ بہت جلد ان کے زیر اللہ آجاتے تھے اور در دصاحب اکثر اپنی بات منوا کہ ہی اُٹھتے تھے۔بظاہر حالات مجھے امید نہیں کہ جماعت کو قریب کے زمانہ میں درد صاحب جیسا کا میاب ناظر امور خارجہ میسر آئے۔ولعل الله يحدث بعد ذالك امراء کچھ عرصہ درود صاحب نے انگریزی ترجمہ قرآن کریم کے بورڈ میں بھی کام کیا جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور ملک غلام فرید صاحب ایم اے اور چودھری ابوالہاشم خان صاحب مرحوم اور یہ خاکسار کام کرتے تھے اور درد صاحب کی قابلیت بورڈ کے لئے بہت مفید اور کار آمد ثابت ہوتی تھی۔جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے۔میرے ساتھ ذاتی تعلقات در د صاحب کے ۱۹۱۶ء میں یعنی آج سے چالیس سال قبل شروع ہوئے اور ہم نے نہایت درجہ محبت اور اخلاص کے ساتھ یہ زمانہ گذارا، اور نظارتوں میں آنے کے بعد تو ہم گویا مسلسل رفیق کا ر ہی رہے۔درد صاحب اکثر میری رائے پر اعتماد کرتے تھے اور مجھے بھی اکثر ان کے مشورہ پر اعتماد ہوتا تھا۔اور گو بعض اوقات ہماری رائے میں اختلاف بھی ہو جاتا تھا۔(واختلاف امتی رحمۃ)۔مگر درد صاحب کی محبت کا یہ اندازہ تھا کہ وہ اکثر میری رائے پر اعتماد کرکے اپنی رائے ترک کر دیتے تھے۔گو بعض اوقات مجھے بعد میں محسوس ہوتا تھا کہ حالات کے لحاظ سے درد صاحب کی رائے ہی زیادہ مناسب تھی۔مجھے وہ آخری دفعہ چند دن ہوئے لا تہور میں عزیز منظفر احمد کے مکان پر آکر ہے۔در اصل وہ میری اور امتم منظفر احمد کی عیادت کے لئے وہاں آئے تھے۔اور اس سے قبل بھی کئی دفعہ آچکے تھے۔لیکن اس دفعہ ایسا خدائی تصرف ہوا کہ جب میں انہیں رخصت کرنے کے لئے مکان سے باہر گیا تو انہیں رخصت کرتے ہوئے ان سے غیر معمولی طور پر بغل گیر جو کہ بلا۔غالباً اس میں تقدیر کا یہ اشارہ تھا کہ اب یہ تم دونوں کی آخری ملاقات ہے میرے علاوہ درد صاحب کے زیادہ تعلقات عزیزم مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے ناظر اعلیٰ اور عزیزم میاں ناصر احمد صاحب اور عزیزم مرزا ظفر احمد اور عزیزیم مرزا مظفر احمد اور مکرمی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور مکرمی چودھری فتح محمد صاحب سیال (جن کے ساتھ بعد میں ان کا رشتہ بھی ہو گیا ، اور مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب اور مکرمی چودھری اسد اللہ خانصاحب اور مکرمی راجہ علی محمد صاحب کے ساتھ تھے۔مگر حقیقہ ان کا حلقہ ملاقات بہت وسیع تھا۔اور بہت سے غیر از جماعت معززہ اصحاب ان کے دوستوں میں شامل تھے۔حضرت خلیفہ ایسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تو در دو صاحب کو خاص محبت اور