تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 243
۲۴۳ دیا گیا۔سوا دو بجے کے قریب آپ کو ضعف کا پھر شدید دورہ ہوا اور آپ نصف صدی سے زائد عرصہ تک اسلام اور احمدیت کی ان تھک خدمات بجا لانے کے بعد عالم جاو دانی کی طرف رحلت فرما گئے۔آپ کی وفات کی غیر تمام ریوہ میں آنا فانا پھیل گئی۔اور لوگ کثرت کے ساتھ آپ کی رہائش گاہ کی طرف آنے شروع ہو گئے۔وفات کی خبر موصول ہوتے ہی صدا نہیں احمدیہ اور تحریک بدیہ کے دفاتر میں باقی وقت۔کے لئے فوراً تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے اگلے روز در دسمبر ۱۹۵۵ء کو نماز ظہر کے بعد حضرت مصلح موعود نے احاطہ بہشتی مقبرہ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں اہل ربوہ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئے۔نماز ظہر کے بعد آپ کا جنازہ بہشتی مقبرہ لے جایا گیا۔جہاں سید نا حضرت مصلح موعود نے نمازہ جنازہ پڑھائی اور کافی دور تک کندھا دیا۔چار پائی کے ساتھ بڑے بڑے بانس باندھ دیئے گئے تھے تاکہ احباب آسانی کے ساتھ کندھا دے سکیں۔سپرد خاک کرنے سے قبل احیاب جماعت کو چہرہ دیکھنے کا موقعہ دیا گیا۔لوگ احمدیت کے فدائی اور دیرینہ خالص خادم سلسلہ کے چہرے کی آخری جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔اور ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔چنانچہ اس بات کا انتظام بھی کیا گیا کہ سب احباب قطارہ میں باری باری گذر کہ چہرے پہ آخری نظر ڈال لیں۔به منتظر نهایت درد ناک تھا، ضبط کے باوجود اکثر احباب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔جب سب احباب چہرہ دیکھ چکے تو آپ کو سپردخاک کر دیا گیا۔قبر تیار ہوتے پر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے دعا کرائی سے حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد نے جس انتشار و اخلاص سے سلسلہ کی خدمت کی وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک نوٹ میں اظہار تعزیت کرتے ہوئے لکھا :۔لمرم درد صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے درخشندہ گوہر اُن صادق وفا داروں اور سچے خدام میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی سلسلہ کے لئے وقف کر دی۔اور آخر دم تک اس پر قائم رہے۔دین کو دنیا پر ملی طور پر مقدم کیا۔آج اُن کے کالے فیلو بڑے بڑے مناصب پر فائز ہیں، اور ہزاروں روپیہ تنخواہ الفضل و دبیر ادمن له الفضل ار دسمبر من