تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 228
۲۲۸ نے میرے غم کو زیادہ گہرا کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کو اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔دے )۔پاکستان ریڈ کو اس کے سیکرٹری جنرل محترم صفدر علی خانصاحب نے اپنے مکتوب میں لکھا :۔" مرحوم کا وہ پر خوش زمانہ جو دہلی میں ہم نے دیکھا تھا۔آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔وہ نمازوں کا با جماعت اہتمام ، پھر فجر کی نماز کے بعد درس قرآن مجید جو مرقوم اپنے گھر میں ہی ہم لوگوں کو دیا کرتے تھے۔ہر اتوار کو بلاناغہ سائیکلوں پر صبح سے شام تک دہلی کے ملحقہ دیہات میں تبلیغ ، خدام الاحمدیہ کے اجلاسوں میں ان کی یادگار تقریریں۔یہ سب اور اسی قسم کے دیگر بے شمار دینی مشاغل جن میں مرحوم مستغرق رہا کرتے تھے۔ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے پھر رہے ہیں۔مجھ سے مرحوم خاص شفقت سے بلا کرتے تھے۔جب خاکسار جاپان میں تھا تو ایک فوجی افسر جو میرے دوست تھے رخصت پر ہندوستان جانے لگے مجھ سے گھر والوں کے لئے کوئی پیغام وغیرہ پوچھا۔میں نے جواب دیا۔گھر میں توسب خیریت ہے۔البتہ اگر دہلی جاؤ تو میرے ایک محترم بزرگ وہاں رہتے ہیں ، ماسٹر محمد حسن صاحب آسان ان کا نام ہے۔ان کو میرا سلام پہنچا دینا چنانچہ وہ دہلی گئے میرا سلام ماسٹر صاحب مرحوم کو پہنچایا۔جب واپس جاپان آئے تو کہنے لگے کہ اپنی مخصوص صفات اور نہ ہی جذبہ کے لحاظ سے ماسٹر صاحب منفرد انسان ہیں۔غرضیکہ مرحوم جس سے بھی ایک دفعہ ملنے اپنے مخصوص انداز میں اس پر بہت گہرا اثر ڈالتے۔مجھے ان کی وفات پر بے حد صدمہ ہوا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے کیے۔تے حضرت آسان دہلوی کی اولاد کی تفصیل یہ ہے :- اولاد ! ر اولاد پہلی اہلیہ امتر المغنی شمیم صاحبہ )۔ا۔- سائرہ خاتون ۲ - مریم خاتون - محمود احمد خانصاحب مرحوم سابق نائب امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی و زعیم اعلیٰ محیی انصار الله کے الفضل ۲۴ ستمبر ۹۵ ومن ايضا۔اوه