تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 227
۲۲۷ میں مرحوم ماسٹر صاحب کو قادیان کی مجلس مشاورت میں دور سے دیکھا کرتا تھا۔آپ کی میٹھی زبان اور نکتہ رس تقریریں شنکر دل میں خواہش پیدا ہوا کرتی کہ ان کو قریب سے دیکھوں اور ان کی باتیں سنوں۔اس کے بعد مجھے علی گڑھ اور دہلی جانے کا اتفاق ہونے لگا۔ایک دفعہ ماسٹر صاحب نے خود ہی مجھے دعوت دے کر اپنے پاس بلوایا۔اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔شائد ہی مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہو اور انہیں اس کا علم ہو گیا ہو اور پھر انہوں نے مجھے اپنے ہاں دعوت نہ دی ہو۔میرے لئے یہ مجالس از یا دعلم اور از یاد ایمان کا باعث ہونے کے علاوہ نہایت درجہ دلچسپ اور لذیذ ہوتیں۔آپ کی عام گفتگو میں ایسی بے ساختہ ادبی خو بیاں ہوتیں کہ جی چاہتا کہ اسے لکھ لیا جائے۔کہیں نے ان کے کئی مختصر افسانے ان کی اپنی زبان سے گنے نہیں نے علی گڑھ کے زمانے میں دہلی کے مشہور داستان گو سے (حین کا نام اب مجھے یاد نہیں ) داستانیں سنی ہیں۔یہ لوگ ایک شاندار ماضی کی یادگار تھے۔ماسٹر صاحب مرحوم میرے علم میں اس ادبی دور کی آخری شمع تھے۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں ماسٹر صاحب مرحوم کی مجلس میں شامل ہو کر ان کے علم وفن سے محظوظ ہوتا رہا ہوں۔آپ کی ملاقات کا حلقہ وسیع تھا تقسیم ملک کے بعد بھی آپ نے اپنے دوستانہ تعلقات قائم رکھے اور اپنی خاص مجالس کا سلسلہ جاری رکھا۔سلسلہ احمدیہ اور سلسلہ کی شخصیتوں سے جو محبت اور عقیدت تھی۔اس میں ایک کمال درجے کی سادگی تھی۔اس کے اظہار کے لئے کسی تحریک کے منتظر نہ رہتے۔بلکہ جب بھی سلسلہ کلام شروع ہوتا تو یہ محبت آپ ہی اُبل پڑتی ہی (4) مکرم نسیم سیفی صاحب رئيس التبلیغ لیگوسی (نائیجیریا) نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے مجھے حضرت ماسٹر صاحب کو کسی قدر قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔جماعت میں بھی اور جانت کے علاوہ بعض دیگر تقاریب میں بھی۔مجھے ان کے قریب بیٹھ کر ان کی مخصوص انداز میں گفتگو سننے کا بھی موقع ملا اور ان کے دلچسپ مناظرے سننے کا بھی ، نہیں نے ان کو جماعتی کاموں میں منہمک بھی دیکھا اور انفرادی طور پر لوگوں کی مدد کرتے ہوئے بھی دیکھا، کہیں نے ان کے مذہبی مضامین بھی پڑھے اور ان کی زبان سے خواجہ محمد شفیع صاحب دہلوی کی مجالس میں ان کے ادبی مقالے بھی سنے۔اس قرب اور عقیدت له الفضل ۲۴ ستمبر هر سه حال وکیل التصنیف تحریک جدید ربوده۔۔