تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 226 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 226

۴۲۶ (۳) - حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا :۔" ماسٹر اس آن صاحب رضی اللہ تعالی عنہ سے میرے بھی تعلقات تھے۔وہ مجھ سے محبت رکھتے اور ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملا کرتے۔ان کے کلام میں شگفتگی اور عجیب طاحت تھی۔جب مجھے مرکز سے عزیز مکرم مولوی محمد نذیر صاحب قریشی ملتانی کی معیت میں ایک وفد کی صورت میں تبلیغی خدمات کے لئے دہلی بھیجا گیا اور کہیں نے ایک عربی رسالہ مع دو عربی نظموں کے لکھ کر شائع کیا تو جناب ماسٹر آسان صاحب ان تبلیغی مہمات میں اور رسائل و اشتہارات کی اشاعت کے کام میں بہت ہی محمد محاولت ثابت ہوئے اور انہیں ویسے بھی تبلیغ کا بے حد شغف تھا۔غالبا ان کا اکثر وقت اپنی مشاغل میں گذرتا کہ کہیں احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔اور کہیں مخالفین اور معترضین کے اعتراضات کے جواب دینے میں مصروف ہیں۔اللهم اغفر له وارحمه - رقعه الله في الجنّات العلية الرفيعة و حفظ اولاده وبارك فيهم وعليهم ببركاته البديعة۔أمين۔خاکسار غلام رسول را جیکی ربوده (۴) حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے اپنے مکتوب میں لکھا :۔موصوف مجھ سے جب میں قادیان میں تھا بہت محبت رکھتے۔جلسہ سالانہ پر نہایت پرسوز لہجے میں جذبات انگیز نظم پڑھتے تو سامعین پر ایک کیف طاری ہو جاتا۔ایک دفعہ تو ہجوم جذبہ شوق سے خود غش کھا کر گر پڑے۔مسجد اقصی سے آتے ہوئے راستہ میں ملے تو۔۔میں نے سر پر پگڑی دیکھی کہ ان کی نزاکت طبع کا ایک قصہ یاد دلاتے ہوئے پوچھا یہ کیا ؟ کہنے لگے بھٹی ہر ملکے در سے اب تو ہم پنجابی، ہمارے گرد و آقا بھی پنجابی ما قبلہ راست کردیم آنسوے کھلا ہے۔قادیان میں اپنے بیٹیوں کو ساتھ لے کر میرے مکان پر آئے اور ایک ایک کا تعارف کراتے ہوئے ان سب کے لئے حسنات دین ودنیا کی دُعا کرنے کے لئے التجا کی ہے۔" (۵) محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحبه - ری شعبہ سائیکالوجی کراچی یونیورسٹی نے اپنے مکتوب میں نظریہ کیا :- • له الفضل ۲۴ ستمبر ١٩٥٥ ء ص - له الفضل ۲۴ ستمبر ۵۵ مث