تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 225
فیصلہ پر صاد که دریایی ۲۲۵ ) قمرالانبیاء حضر بشیر عمران دوسرے بزرگان او مخلصین بلبل کے تاثرات نے آپ کی وفات پر سب ریلی متر وٹ سپرد قلم فرمایا :- آسان صاحب مرحوم کو میں ایک عرصہ سے جانتا تھا۔نہایت مخلص اور زندہ دل بزرگی تھے اور مجلس میں گفتگو کا خاص دلکش انداز رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان کی حاضر جوابی کے سامنے اکثر ذو علم اصحاب کو بھی لا جواب ہونا پڑتا تھا۔شگفتہ مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نیک اور سلسلہ احمدیہ کے لئے خاص اخلاص اور قربانی کا جذبہ رکھتے تھے۔ان کے بہت سے بچے اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے وقف ہیں جو انشاء اللہ ان کے لئے قیامت کے دن ایک تاج بن کمہ زرنیت کا موجب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل اور رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کی اولاد کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین۔آسان صاحب مرحوم ہمارے خاندان کے بھی بہت سے بچوں کے استاد تھے۔جن میں میری چھوٹی لڑکی امتر اللطیف سلمہا بھی شامل تھتی ہیں (۲) حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے آپ کی وفات کی خبر سپر کلب روڈ یہ کوہاٹ سے ۱۵ ستمبر ۱۹۵۵ء کو حسب ذیل تعزیتی خط تحریر فرمایا ہے جناب ماسٹر صاحب مرحوم کی وفات کی خبر سے دل کو قلق ہوا۔۔۔۔۔میری لڑکی آصفہ (سیگیم مرزا مبشر احمد ) کو حسین ہمدردی اور محبت و پیار سے انہوں نے پڑھایا ان کا وہ سلوک میرے پیش نظر اور دل پر نقش ہے۔آصفہ کو ان کی وفات کا بہت صدمہ ہوا ہے۔بہت نیک نیت اور نیک طبع مسہتی تھی۔خدا تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی نسلوں کو ان کے لئے ذکر خیرا در زیادہ سے زیادہ بلندی درجات کا موجب بناتا رہے۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑھتی ہوئی رحمت کا سایہ رکھے اور ان کے پسماندگان کا خدا حافظ و ناصر ہو۔انا للہ وانا الیہ راجعون (مبارکه) ۱۵ ستمبر او با۔له الفضل ۲۲ اکتوبر شاه ۴ - الفضل ٣ ستمبر ۱۹۵۵ء م٣ م له سے یہ مکتوب آپ نے مکرم سعود احمد صاحب دہلوی کے نم تیم فرمایا تھا کے الفضل ۲۴ ستمبر شاه ما