تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 190 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 190

19۔وجہ سے کسی پر برا اثر ڈالتی ہو۔پھر تذکرہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مدینۃ العلم کے دو علاقے یادو محلے ہیں۔ایک علاقه یا محلہ کا نام بیت الفکر ہے اور دوسرے کا نام سمیت الذکر ہے۔ان دونوں کا لطیف امتزاج اس شہر کی آبادی کا موجب ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام میں بتایا ذُو عَقْلِ مَتِيْنِ بَيْتُ الْفِكْرِ وَ بَيْتُ الذِّكْرِ وَ مَنْ دَخَلَهُ كانَ آمِنا تو آج ہمارے نزدیک۔۔۔قومی العقل ہے تجھ کو بیت الفکر اور بہت الذکر عطا کیا اور جو شخص بہت الذکر میں با خلاص و قصد تعبد و صحت نیست و حسین ایمان داخل ہوگا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آجائے گا ہی گویا یہ یونیورسٹی جو حضرت مسیح موعود على المسلوة والسلام کے ذریعہ سے اس زمانہ میں قائم کی گئی ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔ایک بہت الفکہ کہلاتا ہے۔یعنی یہ حقہ ان علوم پر مشتمل ہے۔جو کوئی اپنی عقل و تدبر، غور و فکر، اور دنیوی جد و جہد سے نکالتا ہے اور اس کے ذریعہ حقائق الاشیاء معلوم کرتا ہے۔دوسرا حصہ بیت الذکر کہلاتا ہے ، اور یہ حقیہ ان علوم پر مشتمل ہے جو ذاتی کاوش اور جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہوتے بلکہ دعا ، انابت الی اللہ اور خشیت اللہ کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی روشنی میں اس مدینۃ العلم میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو ان خرابیوں اور نقائص کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو دنیوی یو نیورسٹیوں میں تعلیم کرنے والوں کو پیش آتے ہیں بلکہ جو طالب علم اس یونیورسٹی میں داخل ہو گا وہ بد امنی ، فساد، نظلم اور ہلاکت سے محفوظ رکھا جائے گا۔دنیوی سائنسدانوں نے ایٹم بم ایجاد کیا اور وہ اس کامیاب ایجاد پر نازاں تھے۔لیکن آپ وہ خود اس ایجاد پر پشیمانی کا اظہار کہ رہے ہیں لیکن اس قسم کا خطرہ اینی مدینہ اعلم میں نہیں کیونکہ عقل تو خود اندھی ہے جب تک اسے دین کی روشنی نہ دی جائے۔یہ انسان کو ہلاکت کے له برا همین احمد به حقه چهارم شده حاشیه در حاشیه ما