تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 189
وہاں لکھا ہے۔اس وقت سائنس اس کی وضاحت نہیں کر سکی۔یعنی یہ ایسا راز ہے جس کے متعلق بیالوجسٹ مذکور نے تسلیم کیا ہے کہ اب تک سائنسدان اسے پا نہیں سکے۔یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان اسے قیامت تک بھی نہیں پا سکے گا، لیکن بہر حال سائنسدانوں نے اس خدنگ تسلیم کر لیا ہے کہ سائنس اب تک اس راز کو نہیں پا سکی۔آگے جا کہ خلاصہ لکھنے والا بیان کرتا ہے کہ در تنظیم کا یہ اصول نہ صرف انسان کا ارتفاع کرتا ہے بلکہ اس کے مذاہب کے لئے تین بنیادی چیزیں جہتیا کہتا ہے۔یعنی بے ترتیب ہوئی میں ترتیب پیدا ہو جاتی ہے۔مادہ میں روح پیدا ہو جاتی ہے اور بے اثر اور غیر جانبدار عناصر میں شخصیت اُبھر آتی ہے۔تنظیم کا یہ اصل جس کو کسی طور پر بھی الفاظ میں بعینہ نہیں ڈھالا جا سکتا۔میں بلا خوف تردید اسے خدا تعالیٰ کی ایک صفت سمجھتا ہوں : گویا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قائم کئے گئے دارالعہ کے ذریعہ قائم کئے گئے دارالعلوم کے بیت الحکمہ کی ایک مثال دی ہے کہ آپ نے شعراء میں یہ بتایا کہ روح جسم سے نکلتی ہے اس کے قریباً ساٹھ سال بعد سائنسدانوں نے جو معرکہ مارا اس کا نتیجہ وہی تھا جو آپ نے ۱۸۹۶ء میں بیان فرما دیا تھا۔جو پھر دنیوی اداروں میں یہ ہوتا ہے کہ کوئی علم طالب علم کے دماغ کے مطابق ہوتا ہے اور کوئی نہیں ہوتا۔اس لئے بعض اوقات طالب علم اس سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جو اسے اٹھانا چاہیے۔مثلاً ایک لڑکے کا رحجان ڈاکٹری کی طرف ہے۔لیکن باپ اسے انجنئیر نگ کی تعلیم دلانا چاہتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ باوجود اپنی پوری محنت کے اس علم کو پوری طرح حاصل نہیں کر سکتا۔لیکن حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ و السلام کے ذریعہ قائم کی ہوئی یو نیورسٹی کے علوم میں یہ نقص نہیں ہوگا۔یہاں یہ صورت نہیں ہو گی کہ آپ کا رحجان تو ڈاکٹری کی طرف ہو لیکن رستہ آپ کو فلسفہ کا دکھایا جائے۔بلکہ ان علوم میں طالب علم کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہوگی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام کے الہام ربِّ عَلَّمْنِي مَا هُوَ خَيْرُ عِندَكَ " یعنی اے اللہ ! مجھے وہی کچھ دکھا جو تیرے نزدیک بہتر ہے، میں بتایا گیا ہے ، خدا تعالیٰ ہر اک شخص کی علمی استعداد اور اس کے دماغی رحجان کو جانتا ہے۔اس لئے یہاں ایسے علم کی تعلیم دی جائے گی جو طالب علم کے ذہن کے عین مطابق ہو اور اس میں اس کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہو گیا۔اس تعلیم میں یہ نقصان نہیں پایا جائے گا کہ وہ دماغ کے غیر مناسب ہونے کی