تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 157
کا موقع نصیب ہوا۔نیز اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے جمہ من ما ہر ڈاکٹر فرز کورسٹلر بھی نیمی طور پر طلبہ کے دوران ربوہ پہنچے اور گہری دلچسپی DR۔FRITZ KORE STILLER کا اظہارہ کیا۔موصوف اُن دنوں حکومت پاکستان کو امداد باہمی سے متعلق مشورہ دینے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے یہ یہ پہلا جلسہ تھا جو حضرت مصلح موعود کی سفر یورپ سے با صحت واپسی کے بعد منعقد ہوا جس میں کناف عالم کے روحانی پرندے مقدس امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہوئے اور ربوہ کی مقدس بعنی شم ادْعُهُنَّ يَا تِبْنَكَ سَعْيا كى عمل تفسیر کا روح پرور نظارہ پیش کر رہی تھی۔قادیان اور ربوہ کے جلسوں کا یکجائی تذکرہ کرنے کے بعد ان کے ضروری کو ائف کا الگ الگ ذکر کیا جاتا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے قبل قافلہ پاکستان کے سفیر قادیان کی تفصیلات بیان ہوں گی۔اس سال جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے لئے جانے والا قافلہ پاکستان دیار حبیب میں قافله پاکستان اکتالیس احمدیوں پشتمل تھا جو ۲۵ دسمبر ۱۹۵۵ء کو صبح سوا نو بجے جو دیا مل بلڈنگ سے روانہ ہوا۔قافلہ کے لئے پنجاب میں ریزرو کرائی گئی تھی۔تمام احباب کیس میں بیٹھ گئے تو امیر قافلہ جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے فرمایا کہ اس سال سلسلہ کی کتنی منفقت در ہستیاں اپنے مولے تحقیقی کے پاس سدھاری ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے اللہ تعالی میں پنا نا نا چا ہتا ہے اور ہم ایک مقدس مقصد کی خاطر یہ سفر کر رہے ہیں۔اس سفر میں تمہیں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی طرف جھکنا چاہیے۔آؤ ہم اس سے استمداد کریں۔چنانچہ دُعا کے بعد قافلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور تسبیحات پڑھتا ہوا روانہ ہوا۔پاکستان کی کسٹم پوسٹ اور پولیس پوسٹ کی چیکنگ سے فارغ ہو کر قافلہ ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوا۔یہاں کسٹم کی پوسٹ پہ قافلہ کا استقبال سردار بھگت سنگھ صاحب انسپکٹر پولیس نے کیا۔سردار صاحب موصوف نہایت شریف اور ہمدر و افسر تھے جانتے اور آتے وقت وہ قافلہ کے ساتھ رہے اور قادیان میں بھی وقتاً فوقتاً زائرین سے رابطہ قائم رکھا اور اُن سے پروکسش احوال کرتے رہے۔پولیس پوسٹ پر آکر سردار صاحب موصوف نے جلدی قافلہ کو فارغ ه روزنامه الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۵۵ء / ۳۱ فتح ۱۳۳۲ میش ها