تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 142
۱۴۲ لیکن جو اصل چیز ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ یہ بوجھ خود اٹھا لے تا کہ آئندہ ہمارے لئے کوئی فکر کی بات نہ رہے۔حضرت مصلح موعود اجتماع کے آخری روز بھی تشریف لائے۔اس موقع پر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزہ یہ کے نائب صدر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے اُن خدام کو حضور کی خدمت اقدس میں پیش کیا جنہوں نے مغربی پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کا کام نہایت محنت اور جانفشانی سے انجام دیا تھا۔حضور نے سب نوجوانوں کو شرف مصافحہ سے نوازا ، ہر مجلس کے خدام سے دریافت فرمایا کہ انہوں نے کیس کہیں علاقہ میں ریلیف کا کام کیا۔اور یہ کہ ان کے امدادی کام کی نوعیت کیا تھی ؟۔جب آنبہ ضلع شیخو پورہ کے بعض زمیندار مقام نے بتایا کہ وہاں خدام نے معماری کے کام سے نا واقف ہونے کے باوجود مصیبت زدہ لوگوں کے مکانات اپنے ہاتھوں سے تعمیر کئے ہیں تو حضور نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ب خدمت خلق کی خاطر ہمارے دوستوں کو دل پسند مشغلے کے طور پر معمار کا کام سیکھنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئیے۔یہ کام بہت تھوڑی سی کوشش کے بعد با آسانی سیکھا جا سکتا ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ بارشوں اور سیلابوں وغیرہ کی ناگہانی مصیبتوں کے وقت وسیع پیمانے پر ایسی خدمت بجالا سکتے ہیں کہ جس کی ایسے مواقع پر ہمیشہ ہی شدید ضرورت محسوس کی جاتی ہے؟" ان سب خدام کو شرف مصافح عطا فرمانے کے بعد حضور نائب صدر کی معیت میں اسٹیج پر رونق افروز ہوئے اور خدام کو ایک روح پر در خطاب سے نوازا جس میں انہیں دُعاؤں پر زور دینے ، اللہ تعالی پر تو تحمل کرنے اور خدمت خلق کا فریضہ اُس بلند معیار کے مطابق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی جس کا مطالبہ اُن سے احمدیت کہتی ہے۔چنانچہ فرمایا :- خدمت کرو اور کرتے چلے جاؤ تمہارا نام خدام الاحمدیہ ہے۔خدام احمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ تم احمد بیت کے خادم ہو۔خدام احدید کے معنے ہیں تم احمدی خادم ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سیدُ القَومِ حَادِ مُهُم قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے اگر تم واقع میں سچے احمدی بنو گے اور سچے خادم بھی بنو گے تو تھوڑے دنوں میں ہی خدا تم کو نستید بنا دے گا۔ہر لے روز نام الفضل هاردسمبر ۱۹۵۵ء ۲۱۳۵ - ۲ روزه تا مه الفضل ۲۲ نومبر ۹۵ و ما