تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 136
حیثیت میں یہ کام ہے کہ وہ قرآن کریم کے معنی کو محفوظ رکھیں اور وہ گردو غبار جو قرآن کریم پر پڑے گیا ہے اسے صاف کریں یہ گرد و غبار قرآن کریم کا حصہ نہیں بلکہ لوگوں نے اپنے غلط خیالات کی وجہ سے قرآن کریم کے معانی پر ڈال دیا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں اور ان کا کام اس سے گردو غبار کو دور کرتا ہے۔ان کی حیثیت شرو ع ہی سے قرآن کریم کی خادم کی سی ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ ان کی یہی حیثیت رہے گی۔لیکن چونکہ مخالفین ہم پر یہ الز تھے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو قرآن کریم پر ترجیح دیتے ہیں او محمد رسول شد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں سمجھتے۔اس لئے میری توجہ اس طرف بھری کہ میں اس بات کی تحقیق کروں کہ آیا آپ کے الہامات میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا گیا یا نہیں۔چنانچہ میں نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ تذکرہ " میں تین دفعہ یہ الہام درج ہے کہ : " صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ سَيْهِ وَلْدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ر ۲۳, ۲۷۵) 3 یعنی محمد رسول الله صل للہ علیہ وسلم پر درود بھیجو جو تمام بنی آدم کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔اب اگر معتر متین کا یہ اعتراض درست ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی کو قرآن کریم پر ترجیح دیتے ہیں تو اگر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے تو اپنے عمل سے ہم حضرت مسیح موجود علي الصلوۃ والسلام کو جھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ ایک طرف تو ہم معترضین کے قول کے مطابق آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑا اور افضل قرار دیتے ہیں۔اور دوسری آپ کے الہام کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وحی کو قرآن کریم سے افضل قرار نہیں دیتے بلکہ انہیں قرآن کریم کے خادم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں تو پھر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں رہتا کہ ہمارے اپنے عقیدے کے رو سے بھی محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم خاتم النبی ہیں کیونکہ مرزا صاحب کے الہامات میں بھی محمد رسول اللہ صلی الشر علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔پس یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کوئی ایماندارا حمدی یہ گمان تک نہیں کر سکتا کہ حمد رسول اللهعلیہ و آلہ وسلم خاتم النبیین نہیں تھے۔اگر ہم قرآن کریم کی طرف جاتے ہیں تو اس میں بھی آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔اور اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی طرف جاتے ہیں تو ان میں بھی آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے پھر اگر ہم آپ کی تحریروں کی طرف دیکھتے ہیں تو ان میں بھی