تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 127
۱۲۷ لیے هَاجَرُوا وَجَهَدُوا مَعَكُمْ فَا ذليكَ منا یعنی وہ لوگ ایمان تو بعد میں لانے اور انہوں نے ہجرت بھی بعد میں کی، اور جہاد بھی بعد میں کیا لیکن پھر بھی وہ صحابہ منہ میں شامل ہوں گے ہے اس قیمتی نصیحت کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود کے الہام " حق اولاد در اولاد کی یہ لطیف పా تشریح فرمائی کہ ہر زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ میں حصہ یہ کوئی زیادہ قیمتی چیز نہیں۔زیادہ قیمتی یہ چیز ہے کہ میں نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں وہ قابلیت رکھ دی ہے کہ جب بھی یہ اس قابلیت سے کام لیں گے دنیا کے لیڈر ہی بنیں گے۔۔۔یکی سمجھتا ہوں کہ ہمیں بعد میں جو کچھ بھی بلا۔حق اولاد در اولاد کی وجہ سے ہی ملا اور میں نے جتنے کام کئے اپنی دماغی اور ذہنی قابلیت کی وجہ سے ہی کئے ورنہ مجھ سے زیادہ کتابیں پڑھنے والے دنیا میں موجود تھے۔اگر ان کے دماغوں میں بھی وہی قابلیت ہوتی ہو مجھ میں ہے تو دنیا میں دس ہزار محمود اور بھی ہوتا لیکن اگر ساری دنیا میں صرف ایک ہی محمود ہے تو اس کی وجہ وہی حق اولاد در اولاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارا ورثہ ہمارے دماغوں کے اندر رکھ دیا ہے اور یہ وہ دولت ہے جسے کوئی شخص چھرا نہیں سکتا " حضور نے اس پر معارف نکتہ کو بیان کرنے کے بعد اپنی زندگی کے بعض ایمان افروز واقعات بیان فرمائے اور پھر چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کی دینی خدمت کو بطور مثالی بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے جس طرح وہ کر رہے ہیں اس طرح تم میں سے ہر شخص دین کی خدمت کر سکتا ہے۔بشرطیکہ تم کرنا چاہو اور اپنے اپنے کاموں کے ساتھ دین کی خدمت کے لئے بھی وقت نکالو پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس وقف کو مستقل کیا جاسکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو اپنے تمام کاموں سے الگ ہو کہ خالص دینی خدمت میں مشغول رہیں مگر ہر آدمی ایسا نہیں کر سکتا۔اُن کے لئے یہی طریق ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کا بھی کام کریں اور اُس کے ساتھ دین کو بھی نظر انداز نہ کریں۔یاد رکھو جب تک جماعت میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا نہ ہوتے رہیں گے جو دین کی اشاعت لے انقال : ۷۶ ته روزنامه الفضل ۲۶ نومبر ا صت - روزنامه الفضل ٢٢ اكتوبر مدة