تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 126 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 126

وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوں گے اور اس کی برکتوں سے اتنا حصہ پائیں گے کہ بعد میں آنے والے ان برکات کا عشر عشیر بھی نہیں لے سکیں گے۔کیوں کہ الفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّهِ فضیلت انہی کو ملتی ہے جو نیکی اور قربانی کی راہوں میں سبقت اختیار کرتے ہیں۔اس خطبہ کے بعد حضور کی خدمت اقدس میں ایک احمدی کا خط پہنچا کہ میرے دل میں وقف کی تحریک ہوئی ہے۔سر دست میں دعائیں کر رہا ہوں اور دوستوں سے مشورہ لینے کا بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ آیا میں ذاتی طور پر یہ عہد نبھا سکتا ہوں یا نہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اگلے خطبہ جمعہ (۲۳) ستمبر) میں اس خط کا خاص طور پر ذکر فرمایا اور پھر نہایت موثر رنگ میں فرمایا کہ یہ تو درست ہے کہ ہر اچھے سے اچھے کام کے لئے بھی دکھا اور مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر مشورہ صرف انہی سے لیا جا سکتا ہے جو اُس کے اہل ہوں اور وقف زندگی کے بارہ میں صحیح مشوره صرف امام وقت کا ہی ہو سکتا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے وہ دوست جن کے دلوں میں میرے خطبہ کی وجہ سے وقف کی تحریک ہوئی ہے ان سے میں کہتا ہوں کہ تم سوچو اور مشورہ لو مگر صرف انہی لوگوں سے مشورہ لو جو تمہیں مشورہ دینے کے اہل ہوں بلکہ اگر تم صحیح مشورہ لینا چاہتے ہو تو مجھ سے لو۔دوسروں کو کیا پتہ ہے کہ سلسلہ کو کس قسم کے واقفین کی ضرورت ہے، کسی قسم کا علم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، کسی قسم کا تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے اور پھر ان کے کتنے وقت کی سلسلہ کو ضرورت ہے۔مجھے پتہ ہے کہ سلسلہ کے لئے کسی قسم کے کام کا تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے ؟ کس قسم کے علم والوں کی ضرورت ہے ؟ اور کتنا وقت دے کر وہ سلسلہ کی خدمت کو سکتے ہیں اس بارہ میں صحیح مشورہ انہیں مجھ سے ہی مل سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر صحیح طریق پر کام کیا جائے تو ایک وکیل وکالت کرتے ہوئے بھی سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے۔ایک زمیندار زمیندارہ کرتے ہوئے بھی سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے۔بشرطیکہ وہ شورہ صحیح آدمی سے ہے ، جب تک میرے دم میں دم ہے میں تمہیں صحیح مشورہ دینے کے لئے ہر دم تیار ہوں۔پس مجھ سے مشورہ ہو اور کوشش کرو کہ تم اپنے آپ کو ان لوگوں کی صف میں لے آؤ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَ ه روزنامه الفضل ریوه ۱۶ اکتوبر ۹۵۵ء م۳ تا ۵