تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 125 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 125

۱۲۵ و پیدا ہوئی تو کامیابی اتنی سرعت کے ساتھ ہوگی کہ ہمیں خود بھی اس پر حیرت ہوگی۔رسول کریم صلی الشہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لو تیرہ سال آپ مکہ میں رہے اور تبلیغ کرتے رہے مگر اس تبلیغ کے نتیجہ میں صرف استی آدمی آپ پر ایمان لائے اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لے گئے تو تھوڑے عرصہ کے بعد ہی ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے جس طرح بند ٹوٹنے کے بعد سیلاب کا پانی رک نہیں سکتا اسی طرح جب لوگوں میں ایک کو چل جائے تو پھر گروہ در گروہ لوگ سچائی کو قبول کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی مخالفت ان کو پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔آج ہمیں اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والوں کی ضرورت ہے۔مگر پھر وہ وقت آئے گا کہ وقف کرنے والے اتنی کثرت سے آئیں گے کہ سوال پیدا ہو گا کہ ان واقفین کو سنبھالے کون۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام نے لکھا ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا مجھے یہ فکر ہے کہ روپیہ کو سنبھالنے والے کہاں سے آئیں گے۔اسی طرح مجھے بھی یہ فکر نہیں کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے والے کہاں سے آئیں گے مجھے یہ فکر ہے کہ وقف کرنے والے اس کثرت سے آئیں گے کہ ان کو سنبھالے گا کون دل خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔جن دلوں کو وہ آپ صاف کر دے گا وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آجائیں گے پھر ان کو دیکھ کہ سینکڑوں لوگ پیدا ہو جائیں گے جو اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے پیش کر دیں گے اور ان سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں پیدا ہو جائیں گے۔ہم بچے تھے تو ہم کتابوں میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ جب بادل نظر آتا ہے تو قطرے آپس میں جھگڑتے ہیں ایک کہتا ہے کہ نہیں زمین پر گر کمر کیوں جان دوں۔دوسرا کہتا ہے نہیں کیوں جان دُوں آخر ایک قطرہ بڑھتا ہے اور زمین پر گرتا ہے ہیں کے بعد دوسرا قطرہ گرتا ہے۔پھر تیرا گوتا ہے پھر چوتھا گرتا ہے اور پھر موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔یہی حال دین کی قربانی کا ہے پہلے قربانی کرنے والے جب قربانی کرتے ہیں تو اُن کو دیکھے کہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں تو کچھ بھی نہیں ہوا ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ تباہ ہو جائیں گے مگر ان کی تو ہم سے بھی زیادہ • - عزت ہوئی۔اور ہم سے بھی زیادہ انہوں نے کامیابی حاصل کی۔آؤ ہم بھی انہی کے پیچھے چلیں چنانچہ وہ بھی اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ زمانہ آجاتا ہے کہ انسان کہتا ہے یہیں کسی کو رکھوں اور کسی کو رد کروں کس کو چنوں اور کس کو نہ چوں؟ اس زمانے کے آنے سے پہلے پہلے جو لوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی دین کی خدمت کے لئے پیش کریں گے