تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 582
صاحب مبشر کی تیار کردہ نظم ملک بشیر احمد صاحب ناصر نے خوش الحانی سے سنائی جس میں مبشر صاحہ نے درویشان قادیان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حضور کی یا صحت و سلامتی کا میاب مراجعت پر مبارکباد پیش کی۔پہلی تقریبہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے نے فرمائی جس میں آپ نے بیان کیا کہ ہم لوگ کیوں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی سے محبت رکھتے ہیں اور کیوں محبت رکھنی چاہیئے۔اور پھر اس محبت کا کیا تقاضا ہے اور کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں آپ نے درویشان کرام کو مقامات مقدسہ میں قیام کی غرض و غایت کما حقہ پورا کرنے اور اپنے تئیں پہلے سے بڑھ چڑھ کر خدمات دینیہ میں منہمک کرنے کی تلقین فرمائی کہ یہی اصل ذرائع ہیں۔جن سے حضور کی خوشنودی اور نتیجہ حضور کی بحالی صحت موقوف ہے۔ده سری تقریر حضرت حکیم خلیل احمد صاحب ناظر تعلیم و تربیت نے فرمائی۔آپ نے اپنی تقریر کے پہلے حصے میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سفر یورپ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خود حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے الہامات ، ورؤیا و کشوف اور بڑودہ کے بزرگ کی رویا جو چالیں سال قبل رسالہ صوفی میں شائع ہوئی تھی کا ذکر کر کے بتا یا کہ کس طرح یہ تمام باتیں پوری ہوئیں۔تقریر کے دوسرے حصے میں محترم حکیم صاحب نے آیت قرآنى آمَا الذَ بَدُ فَيَذْهَبُ جاؤ اور أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُلتُ في الأرض کی لطیف تفسیر فرماتے ہوئے ان مخالفتوں کا ذکر فرمایا جو سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد وقتا فوقتا اٹھتی رہیں۔اور ہر موقعہ پر خدا کا کلام آما الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء نہایت شان کے ساتھ پورا ہوتا رہا آپ کی یہ تقریر نہایت موثر و مرکل تھی۔بعده صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے وہ سپاسنامہ پڑھ کر سنا یا جو درویشان قادیان اور جماعتہائے ہندوستان کی طرف سے سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر بطور تہنیت و درخواست دعا تیار کیا گیا تھا۔حاضرین نے اسے سن کر اس سے اتفاق کیا۔- اسی قسم کا ایک اور سپاسنامہ مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے تیار کردہ مکرم مولوی محو حفیظ صاحب بقا پوری نے پڑھ کر سنایا اور اراکین مجلس خدام الاحمدیہ نے اس سے اتفاق کیا۔