تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 82
نہ سو بھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلا کر لوگوں کو بدظن کر دیا جائے چنانچہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو وسیع کریں۔اپنے اپنے حلقہ میں میل جول بڑھائیں ہمارے ملنے ملانے سے ہی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی کیونکہ ہم سے مل کر دوسروں کو معلوم ہوگا کہ ہم تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی اہمت ہیں۔ہمارا کلمہ ہماری نماز ، ہمارا روزہ ہمارا حج ، ہماری زکوۃ سب وہی ہے اور مولوی صاحبان جو کہتے ہیں وہ درست نہیں ہے لیکن اگر یہ غلط فہمیاں اسی طرح پھیلی رہیں تو اس سے ہماری مشکلات میں بے حد اضافہ ہو جائے گا۔پس احمدی خواتین کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیئے اور دوسری خواتین سے میل جول بڑھا کر یہ غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں یال تیسری تقریب - ۲۷ ظور / اگست کو احمدیہ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے حضور کے اعزاز میں پینے لگثری ہوٹل میں ایک دعوت چائے کا اہتمام کیا جس میں احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت معززین بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔اس موقعہ پر حضرت مصلح موعود نے اسلام اور کمیونزم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ہے چوتھی تقریب۔بیچ لگزری ہوٹل میں جماعت احمدیہ کراچی کی طرف سے ۳۰ ظہور / اگست کو ایک شاندار استقبالیہ دیا گیا جس میں احمدی اور غیر احمدی معززین بکثرت مدعو تھے۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے اس تقریب سے بھی خطاب کیا اور حقیقی اسلام" کے موضوع پر ایک نہایت بصیرت افروز تقریر فرمائی جس کا خلاصہ رپورٹر صاحب الصلح" کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے :۔" تشد و تعوذ کے بعد حضور نے فرمایا۔اگر چہ اسلام اُس مذہب کا نام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملا ہے اور مسلم کے نام سے وہی لوگ پکارے جاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر ایمان لاکر آپ کو اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے ہیں لیکن قرآن کریم نے محاورے کے طور پر دوسرے انبیاء اور ان کے پیچھے متبعین کو بھی سلم ه روزنامه المصلح" کراچی مورخه ۲۷ ظهور ۱۳۳۲ مش / ۲۷ اگست ۱۹۵۳ء ص : کے روزنامه المصلح" کراچی مورخه ۲۸ ظهور ۱۳۳۲ ش /۲۸ اگست ۱۹۵۳ء ص۔