تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 81 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 81

۷۶ حضور نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ آجکل سوسائٹی میں ظاہری طور پر عورتوں کا اثر بڑھ گیا ہے، انہیں تلقین کی کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں اور اپنے اپنے حلقے میں دوسری خواتین کے ساتھ تعلقات بڑھا کہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بہہ تن مصروف ہو جائیں کہ جو احمدیت کے خلاف بکثرت پھیلی ہوئی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ اگر احمدی خواتین نے اس امر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے ادا کیا تو اس کا نہایت خوشگوار انتظا ہر ہو گا۔دوران تقریر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہمارے خلاف غلط فہمیاں پھیلتی کیوں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے دینی کارناموں تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ حقیقی اسلام کے پیش ہونے سے ان مخالف مولویوں پر کیا اثر پڑا جنہوں نے دین پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور معمولی معمولی مسائل میں اختلافات کے نت نئے پہلو نکال کر مسلمان کے مختلف گروہوں کو مجبور کر رکھا تھا کہ وہ ان کے ساتھ چھٹے رہیں۔مثال کے طور پر مسلمانوں میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے آکر تمام کا فروں کو تہ تیغ کر دیں گے اور دنیا کے خدا نے مسلمانوں میں بانٹ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علی الصلواة و السلام نے یہ کہ کر کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب جو کچھ کرنا ہو گا خو مسلمانوں ہی کو کرنا ہوگا ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اسی طرح یہ کہہ کر کہ رفع یدین اور امین بالجہر وغیرہ کے جھگڑے عبث ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مختلف حالات اور مختلف مزاجوں کے لحاظ سے مسائل سمجھانے میں مختلف طریق اختیار فرمائے تھے تمہیں جس میں آسانی ہو اسی طریق پر عمل کرو۔لوگوں کو ایسے مولویوں کی محتاجی سے نجات دلادی۔پھر مسلمانوں میں اس بات پر اختلاف چلا آرہا تھا کہ قرآن مجید کی کتنی آیات منسوخ ہیں مختلف لوگ پانچ سے لے کر سات سو آیات تک مختلف تعداد کے قائل تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اعلان کہ دیا کہ قرآن کا ایک شعشہ بھی منسوخ نہیں ہے یہ سارے کا سارا قابل عمل ہے اور اس طرح لوگ دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مولویوں کی غلامی سے آزاد ہو گئے۔ایسی صورت ہیں ان مولویوں کا سیخ پا ہونا لازمی تھا کیونکہ اس طرح ان کی اجارہ داری ختم ہوتی تھی۔انہیں اس کے سوا اور کوئی راہ