تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 80 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 80

۷۵ کہ ان میں کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے کبھی خلاء پیدا نہیں ہوا۔ہر موقع پر کوئی نہ کوئی لیڈر آگے آتا رہا اور مسلمان اس کی قیادت میں منزل بہ منزل کامیابی و کامرانی کی طرف بڑھتے رہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو فوراً حضرت ابو برای نے آگے آکر خلاء کو پورا کر دیا اور قوم میں کپست ہمتی قطعاً پیدا نہ ہونے دی۔آپ نے اس موقعہ پر صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر کوئی شخص محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو خدا سمجھتا تھا تو وہ سُن لے کہ اس کا خدا فوت ہو گیا لیکن جو اس کی و قیوم ہستی کو بعد امانتا ہے کہ جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا تھا تو اس کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی۔تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا۔پس کام، منکر اور سمجھ کے مطابق کرنے چاہئیں اگر ایسا کرنے لگ جاؤ گے تو تم میں سے شخص کمان کے قابل ہو جائے گا۔یہی چیز قوم کو خطرات سے بچانے والی ہوتی ہے کہ اس کے ہر فرد کے اندر لیڈرشپ کی صلاحیت موجود ہو جب یہ صلاحیت قوم میں عام ہو جائے تو پھر لیڈر ڈھونڈنے یا مقرر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ایسی حالت میں وقت پڑنے پر لیڈر شپ خود بخود اُبھر کر آگے آجاتی ہے اور قوم پر ہراساں یا پریشان ہونے کا کبھی موقع نہیں آتا۔اس میں شک نہیں قوموں پر مصائب آسکتے ہیں۔انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔انہیں گھروں سے بھی نکالا جاسکتا ہے لیکن اگر سوچنے کی عادت ہو تو ان سے بچنے کی راہیں بھی نکل سکتی ہیں۔خطاب کے اختتام پر حضور ایدہ اللہ نے تمام خدام سے ان کا عہد بھی دہروایا۔بعدہ لمبی دعا بھی کرائی اور اس طرح یہ مبارک اجلاس اختتام پذیر ہوا یا کہ دوسری تقریب - ۲۶ ظهور/ اگست کو لجنہ اماءاللہ کراچی کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔" جس میں حضور نے خواتین کو توجہ دلائی کہ وہ حالات کے مطابق اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کر یں اور فرائض کو پہچانیں۔اه روزنامه المصلح کراچی مورخه ۱۲۵ ظهور ۱۳۳۲ بیش / ۲۵ اگست ۱۹۵۳ء مشاه