تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 76
کو پہنچ جائے گی کہ اس میں ڈھونڈے بھی کوئی شخص ایسانہ ملے گا کہ جو اس عہد سے کی ذ مرواری سنبھال سکے۔پس جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو کہ بڑے سے بڑا کوئی عہدہ ایسا نہیں ہو سکتا جس کی ذمہ داریوں کو میں کما حقہ ادا نہ کر سکوں۔جب تک ہر فرد اس احساس کے ماتحت آگے بڑھنے کی کوشش نہ کر سے اس وقت تک قومی اعتبار سے وہ صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی جس کا پیدا ہونا تحفظ و بقا اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔پس تم میں سے ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ وقت پڑنے پر وہ بڑے سے بڑا عہدہ سنبھالنے کا اہل ثابت ہو سکے۔اس کوشش اور جد وجہد میں کامیاب ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں علیم کامل و عمل کامل علیم کامل اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ اس جماعت یا مذہب یا سیاست کا بغور مطالعہ کرتا ہے جس سے وہ منسلک ہے۔اسی طرح عمل کامل کے لئے ضروری ہے کہ نظم و ضبط اور جماعتی پابندی کو لازم پکڑا جائے۔دوسرے اپنے اندر خیال آرائی اور بلند پروازی پیدا کی جائے کیونکہ جب تک انسان اس صفت سے متصف نہ ہو اُس وقت تک آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی۔قومی اعتبار سے ترقی کا کوئی مقام ایسا نہیں ہوتا جسے انتہائی منزل سے تعبیر کیا جاسکے۔دنیا میں کوئی قوم بھی ایسی نہیں گزری کہ جو یہ دعوی کر سکی ہو کہ وہ ترقی کے اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ جس سے آگے ترقی کر نا ممکن نہیں ہے۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی پریشان بیان فرمائی ہے گل يوم هو في شان کہ وہ ہر روز ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔شان اُس چیز کو کہیں گے جو غیر متوقع اور غیر معمولی ہو تو كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کا مطلب یہ ہوا که خدا تعالیٰ کی صفات ایسی ہیں کہ ان کے مطابق وہ ہر روز دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر رہا ہے لیکن وہ تبدیلیاں غیر معمولی ہوتی ہیں اور پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔پس انسان بھی جیسے اس دنیا میں امور کی سر انجام دہی کے لئے ایک واسطہ بنایا ہے جہد مسلسل کے لئے پیدا اه سوره رحمن : ۳۱