تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 575 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 575

۵۴۹ نہ انصار کا معاہدہ معاہدہ رہا۔آپ دنیا ہی بدل چکی تھی۔آب ساری دنیا کو فتح کرنے کا سوال تھا۔آپ ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا سوال تھا۔اب مدینہ کے اندریا مدینہ سے باہر کا کوئی سوال نہ تھا۔آپ ہر جگہ یہ لڑائی لڑی جانے والی تھی۔اس طرح اب ہمارے لئے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے لئے وہ دن قریب سے قریب تر لانا چا ہتا ہے۔جب ہم نے اسلام کی لڑائی کو اس کے اختتام اور کامیاب اختتام تک پہونچانا ہے آپ کسی ایک ملک یا دو ملکوں کا سوال نہیں۔اب کسی ایک مبلغ یاد و مبلغوں کا سوال نہیں اب سر دھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے یا کفر جیتے گا اور ہم مریں گے یا کفر مرے گا اور ہم جیتیں گے ہے مالٹا کے ایک انجنیر نے جو لنڈن میں مقیم تھے۔مالٹا کے ایک انجنیئر کا قبول اسلام ۲۷ جولان کوستی ناحضرت مصلح موعود کے ست مبارک پر اسلام قبول کیا۔اس طرح مالٹا میں بھی جماعت احمدیہ کی بنیاد پڑ گئی لیے مورخہ ۲۹ جولائی ۱۹۵۵ء ۲۹ جولائی کو حضور نے جماعت کے نام عید الاضحیہ پندرھواں پیغام موریشی در وجود الفت صبح کے موقعہ پر مبارک باد کا پیغام دیا جو اس سفر کر ۲۹ منٹ کے اعتبار سے پندرھواں اور آخری پیغام تھا۔اور اس کے الفاظ یہ تھے :- تمام بھائیوں کو عید الا ضحیہ مبارک ہو میری صحت بفضلہ ترقی کر رہی ہے لیکن قدرے بیماری ابھی باقی ہے۔احباب دردِ دل کے ساتھ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالٰی ہمیں وہ حقیقی عید کا دن بھی دکھائے جبکہ تمام مذاہب پر اسلام کو فتح نصیب ہو گی پاتے ۳۰ جولائی کو حضور نے لندن میں نماز عید الاضحیہ پڑھائی اور ایک لطیف خطبه عيد الاضحيه ا خطبہ ارشاد فرمایا۔اس خطہ میں حضور نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے واقعہ کا ذکر فرمایا اور اسلام میں یہ قربانی جو اہمیت رکھتی ہے۔اس کی تشریح کی حضور نے مغربی اقوام کو تلقین فرمائی کہ وہ بھی ان برگزیدہ ہستیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی خاطر اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اپنے آپ کو ه روزنامه الفضل ربوه ۱۴ دسمبر ۱۹۵۱ء ص - ش ہے۔الفضل کے یوں ۳۱ جولائی ۱۹۵۶ء صاب ۳ " الفضل" ۳ ر اگست ۹۵ء من ۱۹۵۵