تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 574
۵۴۸ تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور یہ کام ہم سے ہماری دائمی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔اس وقت مغرب میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور مشرق میں بھی۔شمال میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور جنوب میں بھی۔آج ہر ملک اور سہر قوم میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا گاڑا جا رہا ہے۔ابھی ہمارے مبلغ تھوڑے ہیں اور ہمیں بار بار ان کو مدد بھجوائی پیڑ نے گی۔اسی طرح جس طرح شام اور ایران کے اسلامی لشکروں کو کمک کی ضرورت پڑتی تھی ایران میں جب مسلمانوں کو ایک جنگ میں شکست ہوئی تو اس وقت مدینہ میں مزید فوج بھیجوانے کے لئے اعلان کیا گیا۔مگر مدینہ اور اس کے نواح میں کوئی فوج نہیں تھی۔جو مسلمانوں کی مدد کے لئے بھجوائی جاتی۔یہی کیفیت اس وقت ہماری ہو گی ہمیں بھی اس طرح جس طرح ایک بھٹیارہ پتے اور سوکھی شاخیں اپنی بھٹی میں جھونکتا چلا جاتا ہے اسلام کی اشاعت کے لئے متواتر اور مسلسل اپنا روپیہ بھی چھونکنا پڑے گا اپنے آدمی بھی جھونکے پڑیں گے۔اپنی کتابیں بھی جھونکنی پڑیں گی۔اپنا لٹریچر بھی جھونکنا پڑے گا۔اور اس راستہ میں تمہیں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا پڑے گا۔شیطان اپنی کو سی کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا اس وقت خدا کے تخت پر شیطان ممکن ہے۔اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تختہ پر شیطان کے ساتھیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے وہ لڑیں گے اور پورے زور کے ساتھ ہمارا مقابلہ کریں گے اور ہم کو بھی اپنا سب کچھ اس راہ میں قربان کر دینا پڑے گا۔بہر حال جب یہ چیز واضح ہو جائے اور اس لڑائی کی اہمیت کو انسان سمجھ لے تو اس کے بعد تین یا دس یا انہیں کا سوال کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔جب ہم نے یہ تحریک شروع کی تھی اس وقت ہم اس کے نتائج سے ایسے ہی نا واقف تھے جیسے مکہ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ و تم سے معاہدہ کرنے والے انصار اپنے معاہدہ کی حقیقت سے ناواقف تھے۔جیسے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر اسلام کا شاندار مستقبل ابھی پورے طور پر روشن نہیں ہوا تھا اسی طرح ہم پر بھی اس تحریک کا مستقبل اس وقت روشن نہیں ہوا۔پس میں نے تم سے اس طرح وعدہ لیا جس طرح انصار سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا تھا۔اور تم نے اس طرح اقرار کیا جس طرح انصا نے معاہدہ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا۔لیکن جب زمانہ نے پردے اُٹھا دیئے۔قدرت نے انکشاف کر دیا تو نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ وعدہ رہا اور