تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 565
۵۳۹ وہ ضرور روس اور امریکہ کی فوجوں کو تباہ کر دیتا اور اس کو فتح عطا کر تا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ نصرت حاصل نہیں ہوئی اس لئے ثابت ہو گیا کہ میلہ موسیٰ اور عیسی (علیہم السّلام) کی طرح خدا تعالے کے برگزیدہ انسانوں میں سے نہ تھا۔اگر ہٹلر جیسا انسان ان لوگوں کو منظم کر سکتا ہے تو تم جو ایک سچے مذہب کے ماننے والے ہو کیوں منظم نہیں ہو سکتے اگر تم ایسا نہیں کرتے تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔بیس اس موقعہ سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے آپ کو منظم کرو تم اپنے میں سے مختلف ممبروں کو مال تعلیم - استقبال اور غربلہ کی خیر گیری کے لئے انتخاب کرو اور یہ نہ خیال کرو کہ تم تھوڑے ہو تم پر بھی ضروری فرائض عائد ہوتے ہیں جو کثیر التعداد افراد پر عائد ہوا کرتے ہیں۔مرکز میں ہمارے پاس ہر روز کثرت کے ساتھ مہمان آتے رہتے ہیں جن کا کھاتا اور رہائش کا انتظام جماعت کرتی ہے اس طرح دو سو سے زائد بیوگان اور یتیم بیچتے ہیں جن کا تمام خرچ جائت برداشت کرتی ہے۔اس وقت تم دنیا کے سب سے بڑے ملک امریکہ میں بھی یہ نہیں پاؤ گے کہ وہاں غرباء کو مفت تعلیم دی جاتی ہو جیسا کہ ہمارے ہاں دی جاتی ہوتی ہے۔ابھی مجھے ربوہ سے اطلاع ملی ہے کہ اسال یونیورسٹی کے امتحانات کے نتائج صرف ۲۲ فیصد ہی نکلے۔لیکن ہمارے ربوہ کی لڑکیوں کے کالج (جامعہ نصرت کا نتیجہ ۶۳ فیصد ہی رہا اور ان پاس ہوتے والی طالبات میں سے اکثر وہ ہیں جیوں کی فیسیں ہر ماہ میں خود ادا کر تا تھا وہ کالج کی فیسیں جہیا نہیں کر سکتی تھیں۔لیکن ہم نے ان کے اخراجات کو برداشت کیا اور اس طرح عورتوں کی تعلیم کو ترقی دی اس سے پہلے قادیان ایک وقت میں عورتوں کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا۔وہاں پر کل تعلیم کا باسٹھ فیصد ہی تھا۔لڑکوں کی تعلیم کا تناسب نوے فیصدی تھا۔اور عورتوں کی تعلیم کا انتاسب سو فیصدی تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ کوئی قوم پردہ میں ترقی نہیں کر سکتی۔لیکن ہماری طرف دیکھو کہ ہماری بچیوں کو جو عورتیں پڑھاتی ہیں وہ بھی پردہ کی پابند ہیں۔خود میری اپنی بیوی کالج کی پرنسپل ہے وہ عربی میں ایم اے ہے اور وہ اس کام کا کچھ معاوضہ نہیں لیتی لیکن وہ خود بھی پردہ کرتی ہیں اور لڑکیاں بھی ہر وہ میں رہتی ہیں۔اگر ضرورت کے موقعہ پر کالج میں بعض مرد تعلیم کے لئے لگائے جاتے ہیں تو وہ بھی پردہ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھاتے ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کے