تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 561
۵۳۵ (ترجمه) بر عزیزم عبد اللطيف - السّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ۔جور مبنی میں تمہاری کامیابی حیرت انگیز ہے اور معجزانہ رنگ رکھتی ہے۔تم نے جو منی کے رہنے والوں کے دلوں کو فتح کیا ہے اور یہ کام صرف تمہاری کوششوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔یہ یقینی طور پر خدا کا کام ہے۔بعض تو مسلم نہایت جوشیلے اور مخلص ہیں۔خدا تعالیٰ تمہیں زیادہ سے زیادہ نو مسلم عطا فرمائے۔اور تمہارے ذریعہ جرمنی کے لوگوں کے دل اسلام کے لئے کھول دے اور خدا تعالے تمہیں ہمبرگ میں ایک موزوں مسجد تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو جرمنی کے تمام لوگوں کے لئے اور خاص طور پر یہاں کے تو مسلموں کے لئے ایک مرکز بنائے۔آمین۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کی پیشگوئی کے مطابق یورپ یقینی طور پر اسلام کی طرف رجوع کر رہا ہے۔چونکہ یہ پیشگوئی تمہارے ذریعہ سے پوری ہو رہی ہے اس لئے یہ تمہارے لئے تمہارے خاندان کے لئے بہت بڑی برکت کا موجب ہوگی۔خدا تعالے جرمنی کے نو مسلموں کو اپنی برکات میں سے حصہ عطا فرمائے اور ان کو لاکھوں لاکھ کی تعداد میں بڑھاتا چلا جائے یہاں تک کہ جرمنی میں ان کی اکثریت ہو جائے۔آمین۔دو ستخط مرزا بشیر الدین محمود احمد - ۱۲۸ جون ۵۵ ۹ ایول جرمنی سے دوبارہ بالیٹ میں اور دو موجود حضور ۲۹ جون کو بذریعہ ہوائی جہاز دوبارہ بیگ رہالینڈ میں تشریف فرما ہوئے۔بیگ میں حضور نے اپنے تین روزہ قیام میں علاوہ دیگر دینی مصروفیات کے یکم جولائی کو ایک معرکہ آراء خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔یہ خطبہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔برادران کل صبح میں آپ کے ملک سے جا رہا ہوں۔طبعی طور پر یہ جدائی مجھے پر شاق گند رہی ہے۔افسوس ہے کہ میں یہاں ایسے وقت میں آیا جبکہ میں بیمار تھا اور اس بیماری کی وجہ سے میری نظر کان اور قوت یاد داشت کافی حد تک اثر پذیر ہیں۔اس لئے میں احباب کے چہروں اور ان کے ناموں کو بہت جلد بھول جاتا ہوں۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بھائی محسوس نہ کریں کہ میں ان کی طرف توجہ نہیں کرتا حالا نکہ یہ بالکل غلط ہے۔واقعہ یہ ہے کہ میں بعض اوقات ان کے چہروں کو بھول جاتا ہوں اور دوسروں سے له - روزنامه الفضل ربوه ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء مت