تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 553
۵۲۷ ۱۲۳ اور ۲۴ مئی کی درمیانی رات کو میں نے رویا میں دیکھا کہ ہزاروں ہزار آدمی جماعت کے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور میرے لئے دُعا کر رہے ہیں وہ اتنا دردناک نظارہ تھا کہ اس سے میرا دل دہل گیا۔اور میری طبیعت پھر خراب ہوگئی۔یہی وجہ تھی کہ با وجود ارادہ کے میں عبید پڑھانے نہیں جاسکا چونکہ اس رویا میں میرے لئے ایک دہشت تھی اور اب بھی اس کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے میں سفر میں اس رویا کو لکھ کر بھیجوانا پسند نہیں کرتا۔اس عرصہ میں رہوں سے خطوط آئے ہیں ان میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ آخری رمضان کی شام کو جو د عا کی گئی وہ ربوہ میں ایک غیر معمولی دعا تھی۔اورمعلوم ہوتا تھا گویا عرش بھی پل گیا ہو گا۔ان خطوں میں بھی گویا میری رویا کا نقشہ کھینچا گیا تھا۔جزى الله سَاكِنِي رَبوَة خَيْرُال حب حضور نے زیورچ سے مئی شور میں نا فرمان علی این ناظرها ربوہ میں بکثرت درخت لگوانے کی تاکید - کو حسب ذیل مکتوب لکھا جس میں تاکید فرمائی کہ اہل ربوہ کی صحت کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگوائے جائیں۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريميم BEGONIEN STRASSE 2 ZURICH, 57۔SWITZER Land مکرمی اختر صاحب السلام علیکم ورحمتہ الہ و برکاته ریوہ میں لوگوں کی صحت کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے نہایت ضروری ہیں اور درخت بغیر پانی کے نہیں لگ سکتے آپ فوری طور پر صدر انجمن میں یہ معاملہ رکھ کر پاس کرائیں کہ پہلے ٹیوب ویل کو درست کرایا جائے۔بلکہ بہتر ہو کہ بجلی کا انجن اس کی جگہ فوری لگ جائے تاکہ پانی یا افراط مہیا ہو سکے اور پہلے لگے ہوئے درخت سوکھ نہ جائیں اس کے علاوہ مزید ٹیوب ویل بھی جلدی لگائے جانے ضروری ہیں اس بارہ میں کسی واقف سے مشورہ کر کے فوری اپنی رپورٹ بھیجوائیں کہ کسی کسی جگہ ٹیوب ویل لگ سکیں گے جن سے تمام ربوہ کی سڑکوں پر پودوں کے لئے پانی آسانی سے دیا جا سکے۔له - روز نامہ " الفضل " ریوه ۱۴ جون ۱۹۵۵ء ص ٣۔