تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 552
دو اڑھائی مہینے میں ہماری واپسی کا وقت قریب آجائے گا۔احباب دعا کریں خیریت سے ہم پاکستان واپس آئیں اور وہاں بھی اللہ تعالیٰ ہر طرح خیریت کے سامان پیدا کرے۔اس وقت جب کہ میں یہ پیغام لکھوا رہا ہوں۔میری طبیعت بہت اچھی معلوم ہورہی ہے گو یہاں بارش بہت ہے مگر یہاں کی آب و ہوا نے بہت اچھا اثر میری طبیعت پر ڈالا ہے اگر SOUTH میں جگہ مل جاتی تو اس سے بھی اچھا اثر پڑتا ممکن ہے آئندہ مختصر قافلہ کے ساتھ دس بارہ دن کے لئے پھر ڈاکٹری مشورہ کے لئے آنا پڑے کیونکہ ڈاکٹر نے کہا ہے مجھے وقتا فوقتا دکھاتے رہو۔مرزا محمود احمد الله ۲۹ مئی ۹۵اء ( مطابق ۲۹ رمضان کو ربوہ میں رتوں کی دردناک اجتماعی دعا اور حسب معمول درس قرآن مجید کے مقام پر حضرت مرزا اس کا نظارہ عالم رویا میں بشیر احمد صاحب نے اجتماعی دعا کرائی حضور کی غیر حاضری کو اس موقعہ پر اہل ربوہ نے بہت محسوس کیا۔اور اپنے آقا اور روحانی باپ کی جدائی نے ان پر سوز و رقت کی خاص کیفیت طاری کر دی۔چند لمحوں میں ہی گریہ وزاری تفریح اور خشوع و خضور کا ایسا سماں بندھ گیا جس کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے احباب اس قدر تڑپ الحاج اور گڑ گڑاہٹ کے ساتھ دعا کر رہے تھے کہ بعض غیر احمدی دوستوں نے اس گریہ دلیکا رکو نصف میل کے لگ بھگ فاصلے سے سُنا اور اس پر حیرت کا اظہار کیا۔یہ تفریح اور عاجزی اور گریہ و زاری اور تڑپ ان مخصوص دعاؤں کی خصوصیت کا رنگ رکھتی تھی جو قبولیت کا درجہ پالیتی ہیں۔دعا کرنے والوں کی حالت ایسی تھی جیسے کسی کو ذبح کر دیا گیا اور وہ چل رہا ہو اور حقیقت ایسی دعائیں ہی عرش الہی کو ہلا دیتی اور اللہ تعالیٰ کی محبت و رحمت کو آسمان سے کھینچ لاتی ہیں۔یہ منتظر مانہ دعائیں خدا کو ایسی مقبول ہوئیں کہ اس نے اپنے پیارے خلیفہ اور امام برحق سینا حضر مصلح موعود کو زیورچ شہر میں اپنے خدام کی حالت کا نظارہ عالم رویا میں دکھا دیا۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- له - روزنامہ " الفضل " ریوه ۲۹ رمتی ۱۹۵۵ء من۔کے روزنامه " الفضل " دیوه ٢٣ - جون ۱۹۵۵ء ۳۰ -