تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 501
۴۷۹ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ سفر مقدر ہے تو وہ اپنے فضل وکرم سے حضور کو خیربیت کے ساتھ لے جائے اور پوری طرح صحت یاب کر کے کامیاب اور بامراد واپس لے آئے اور حضور کے اس سفر کو دین و دنیا اور ظاہر و باطن اور حال مستقبل کے لحاظ سے مفید اور بابرکت اور مثمر ثمرات حسنہ کرے۔آمین یا ارحم الراحمين۔جیسا کہ میں نے اپنے ایک سابقہ اعلان میں ذکر کیا تھا حضور کی یہ بیماری اعصابی نوعیت کی ہے جو کثرت کار اور کثرتِ افکار کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔۔۔اس وقت حضور کو آج کل کامل جسمانی اور دماغی سکون کی ضرورت ہے۔اس لئے دوستوں کو دعاؤں کے علاوہ یہ بھی احتیاط رکھنی چاہیے۔کہ ان ایام میں حضور کی خدمت میں کوئی ایسا خط یا رپورٹ نہ بھجوائی جائے جو کسی جہت سے فکر او تشویش پیدا کرنے کا موجب ہو کیونکہ موجودہ حالت کا یہ تقاضا ہے کہ ان ایام میں تمام فکروں اور بوجھوں کو جماعت خود اپنے سر اور کندھوں پر لے لے اور اپنے امام کو ڈاکٹری مشورہ کے مطابق ہر قسم کے فکر اور تشویش سے آزاد رہ کر سکون حاصل کرنے کا موقعہ دے۔امید ہے کہ سب دوست اس پہلو کو خصوصیت کے ساتھ مد نظر رکھ کر حضرت صاحب کی صحت کی بحالی میں معمولی ہاتھ بٹاتے ہوئے عند اللہ ماجور ہوں گے۔اس موقعہ پر احباب کی خدمت میں یہ بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ تاریخ اور ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح سے پتہ چلتا ہے ایسے موقعوں پر جب کہ امام کسی دور دراز کے سفر پر بو بیرون از جماعت مخالفین اور اندرون جماعت منافقین امام کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مختلف قسم کے اندرونی اور بیرونی فتنے برپا کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلعم کے سفر تبوک کے موقعہ پر ہوا۔اس لئے احباب جماعت کو عموٹا اور امراء جماعت اور صدر صاحبان کو خصوصاً اس امکانی خطرے کی طرف سے بھی ہوشیار رہنا چاہئیے اور اپنے مخصوص اتحاد اور قربانی اور پوکی اور احساس ذمہ واری اور بیدار مغزی سے ثابت کر دینا چاہئیے کہ کوئی اندرونی یا بیرونی خطرہ انہیں خدا کے فضل سے غفلت کی حالت میں نہیں پاسکتا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کسی قسم کی لغزش پیدا کر سکتا ہے۔لبعض مخالفین ابھی سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے پیش آمدہ سفر کے متعلق بعض جھوٹی اور بے بنیاد افواہیں مشہور کر رہے ہیں بلکہ بعض افواہوں کو تو اخباروں تک میں بھی جگہ دے کہ