تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 484
سے چالیس پچاس ہزار روپے کے وعدے بڑھ جائیں گے۔دنیا کی نظروں میں یہ بات عجیب ہے مگر خدائے عجیب کی نظر میں یہ بات عجیب نہیں۔کیونکہ اس کے مخلص بندوں کے ہاتھوں سے ایسے معجزے ہمیشہ ہی ظاہر ہوتے چلے آئے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہو تے پہلے جائیں گے پہلے بھی تعدا تعالیٰ ایسے ہی بنوں کے چہروں سے نظر آنا رہا ہے اور اب ہمارے زمانہ میں بھی ایسے ہی انسانوں کے چہروں سے خدا نظر آئے گا اور ان کے دلوں اور ایمانوں سے ایسے معجزے ظاہر نہیں ہوں گے بلکہ برسیں گے منکر انکار کرتے چلے جائیں گے۔جبرائیل کا قافلہ بڑھتا جائے گا اور آخریوش تک پہنچ کر دم لے گا۔عرش کا راستہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنی امت کے لئے کھول دیا ہوا ہے۔آپ کوئی ماں ایسا بیٹا نہیں جینے گی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھولا ہوا راستہ بند کر سکے شیطان حسد سے مرجائے گا۔مگر خدا تعالیٰ کی مدد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطانی حسد کی آگ سے بچالے گی دوزخ چاہے گندھک کی آگ کی بنی ہوئی ہو یا حسد کی آگ سے صاحب الخلق رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سے محفوظ کیا گیا ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔دوزخ کے شرار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے لئے ہیں اس کے دوستوں کے لئے کوثر کا خوش گوار پانی اور جنت کے ٹھنڈے سائے ہیں صرف اتنی ضرورت ہے کہ وہ ہمت کر کے ان سالوں کے نیچے جا بیٹھیں اور آگے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و ستم کے ہاتھ سے کوثر کا پانی لے لیں۔لوگ اپنے باپ کی زمینوں اور مکانوں کو نہیں چھوڑتے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک جاتے ہیں کہ ہمارا اور ثہ ہمیں دلوایا جائے اگر مسلمانوں میں سے کوئی بد سخت اپنے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس پر افسوس ہے اس کو تو فیڈرل کورٹ تک نہیں بلکہ عرش کی عدالت تک اپنے مقدمہ کو لے جانا چاہئیے اور اپنا ورثہ لے کہ چھوڑنا چاہیئے۔اگر وہ ہمت نہ ہارے گا اگر وہ دل نہ چھوڑے گا، تو محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ سلم کا ویر اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔صاحب العرش کی عدالت کسی کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتی اور محمدرسول قد صلی الہ علیہ وسلم کا روحانی باپ دنیا کے ظالم دادوں کی طرح اپنے پوتوں کو طبعی حق سے محروم نہیں کرتا بلکہ جب وہ اس سے اپیل کرتے ہیں وہ اُن کے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ اُن کو دیتا ہے بلکہ ورثہ کے حصہ سے بھی بڑھ کر دیتا ہے کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے اور وہ رحیم کریم به برداشت نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولیم کی وفات کے بعد اُن کی روحانی اولاد اپنے