تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 476
۴۵۶ گزار دی۔ابتدائی علاج کے لئے صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب انچارج فضل عمر بسپتال حضور کی خدمت میں حاضر رہے۔اُن کے ساتھ ڈاکٹر کیپٹن محمد رمضان صاحب بھی تھے۔ا، جس روز بیماری کا حملہ ہو اس سے پہلے ڈاکٹر محمد اسلم صاحب پیر زادہ لاہور کو ریوہ چلنے کے لئے کہا گیا باوجودیکہ رات کا وقت تھا اور ربوہ رات کے ایک بجے پہنچنے کا امکان تھا مگر انہوں نے بلا تامل منظور کر لیا اور رات کے ایک بجے پہنچ کر معائنہ کیا اور علاج تجویز کیا۔(۲) ڈاکٹر پیر زادہ صاحب نے تین دن کے بعد پھر دیکھنے آنا تھا مگر حضرت صاحب نے خانصاحب ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کو بھی بایں الفاظ یاد فرماتے ہوئے بلا بھیجا کہ وہ بھی ہمارے خاندان کے پرانے معالج ہیں اور تعلق رکھتے ہیں۔(۳) ڈاکٹر پیر زادہ صاحب اور ڈاکٹر خانصاحب محمد یوسف صاحب کا علاج جاری تھا اور علاج سے فائدہ بھی حصہ رہا تھا لیکن حضور نے از خود ڈاکٹر کرنل الہی بخش صاحب کا نام بھی لیا فرمایا انہیں بھی بلا لیا جائے۔کرنل صاحب موصوف نے بعد معائنہ نہایت محبت کے لہجے میں مرزور طریق پر اطمینان دلایا کہ حضرت صاحب! آپ کو کوئی فالج PARALYsis کا مرض نہیں ہے آپ قطعا فکر نہ کریں۔جب دوسری بار دیکھنے کے لئے ربوہ آئے تو اپنے سامنے حضور کو کھڑا کر کے ٹہلوایا۔دم، ڈاکٹر کرنل الی بخش صاحب کی ہدایت کے مطابق دو ہفتے تک علاج جاری رہا اور صحت میں ترقی ہو رہی تھی مگر پھر خانصاحب ڈاکٹر محمد یوسف کی یاد دل میں آئی اور لاہور پہنچنے پر مشورہ کیلئے بلایا مشورہ کیا تھا گویا ملنا مقصود تھا۔(۵) کرنل الملی بخش صاحب اور خانصاحب ڈاکٹر محمد یوسف صاحب سے دوبارہ سہ بارہ منشوره لیا جا چکا تھا اور مناسب علاج جاری تھا کہ ڈاکٹر پیرزادہ صاحب کی پھر یاد دل میں آئی اور تیسری بار پھر بلا بھیجا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور انہیں گویا صرف اپنے علاج کے مشورہ کے لئے نہیں بلا رہے بلکہ خود انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔(4) کرنل الہی بخش صاحب نے مختلف قسم کے امتحان قارورہ دنوں کے تجویز کئے اور ڈاکٹر غلامحمد نے حضور ۹ مارچ کو ربوہ سے لاہور تشریف لے گئے اور 14 مارچ کو واپس آئے۔درپورٹ فقد آئین احمدیہ ۱۹۵۵-۳ء مث )