تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 475 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 475

۴۵۵ فصل اوّل ۲۶ فروری ۱۹۵۵ء کا آفتاب غروب ہوتے حضرت مصلح موعود کی تشویشناک حالت می خم داندہ اور کب والم کی ایک تاریک رات ہی پوری دنیا ئے احمدیت پر چھا گئی۔احمدی بے چین دل اور مضطرب روح کے ساتھ مندا کے حضور سجدہ ریز ہو گئے اور اپنے محبوب اور مقدس آقا کی شفایابی کے لئے دعائیں کرتے ہوئے آنکھ کے پانی سے اپنی سجدہ گاہوں کو تر کر دیا۔واقعہ یہ ہوا کہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثاني المصلح الموعود قصر خلافت میں نماز مغرب کے بعد لیٹے ہوئے تھے۔پونے سات بجے کا وقت تھا۔حضور کی حرم حضرت سیدہ اتم ستیری حضور کے ساتھ تھیں۔آپ نے اٹھنا چاہا کہ فورا گر پڑے اور بے ہوشی طاری ہو گئی حضرت سیدہ نے بڑی مشکل سے حضور کو سہارا دے کر چار پائی پر لٹایا۔اس وقت حضور کے جسم مبارک کا بایاں حقہ بے حسی کی حالت میں تھا۔آواز لڑکھڑا رہی تھی اور کرب کی حالت تھی حضور کا بلڈ پریشر جو 16۔عام طور پر ایک سو بینی کے قریب رہتا تھا۔ایک سوشتر تک پہنچ چکا تھا۔حضور بول سکتے تھے۔مگر آواز صاف نہیں تھی۔نو بجے شب کے قریب حضور کی حالت میں کسی قدر افاقہ ہوا اور جیسی بتدریج واپس آنے لگی۔اور گیارہ بجے کے قریب بیماری کے بہت سے اثرات زائل ہوگئے۔بلڈ پریشر کم ہونے لگا اور زبان پر بھی بیماری کا بہت خفیف سا اثر رہ گیا۔اور حضور اپنی بائیں ٹانگ اور سا بازو کو حرکت دینے لگے بلے حضور کی اس متوحش بیماری کی اطلاع ملتے ہی بے شمار دوست انتہائی کیے تابی اور دلولہ اخلاص کے ساتھ دیوانہ وار دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں پہنچ گئے۔اور بہت سے اجتماعی طور پر دعا کرنے کے لئے مسجد مبارک اور دیگر مساجد میں جمع ہو گئے۔اور ساتھ ہی صدقے کے طور پر بکرے ذبیح کئے جانے لگے۔یہ گویا حشر کی رات تھی جو ربوہ کی تمام آبادی نے نوافل اور دعاؤں میں شه ضمیمه روزنامه الفضل ریوه ۲۷ فروری ۱۹۵۵ء مٹ