تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 463
م م اس کے بعد میرا اور میرے استاد پیر صاحب کا اختلاف شروع ہوا۔وہ اسی عقیدے پر جم گئے کہ مرزا صاحب نبی نہیں اور نہ ہی خلافت کی ضرورت ہے اور نہ ہی بیعت کی ضرورت ہے۔اور خاکسار ان مسائل کی تہ تک پہنچ گیا۔آب میں اعتقادا احمدی ہو چکا تھا۔لیکن پیر صاحب کو چھوڑنا بہت مشکل تھا۔کیونکہ ان کے ہم پر بہت سے احسانات تھے اور ان کا رعب بھی اتنا تھا کہ ان کو چھوڑنا کارے دار د تھا لیکن لٹریچر کے ذریعہ سے اب حق واضح ہو چکا تھا۔میں ایک دفعہ لا ہور گیا وہاں جو دعا مل بلڈنگ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شہید کی ہجرت کے بعد رہائش پذیر تھے شام کی نماز میں نے حضور کی اقتداء میں ادا کی اور مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب نے میرا تعارف کرایا۔نماز کے بعد ان دنوں حضور نفسیات پر کچھ لیکچر دیا کرتے تھے اور کافی دوست جمع ہو جایا کرتے۔حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اور حضور کے طرز گفتگو نے مجھے کچھ ایسا گرویدہ کیا کہ میں رونے لگ گیلہ حضور نے علاقہ پوچھا تعلیم پوچھی میں نے سب کچھ بتایا۔لیکن اس ملاقات اور حضور کی نگہ نے مجھے اپنا مطیع بنالیا - قال الشاعر : آن دل که ام نمودی از خوبرد جواناں دیرینہ سال پیرے بردش بیک نگا ہے اب میں نے علیحدگی میں پیر صاحب سے بات چیت مؤدبانہ انداز میں شروع کی۔اور اپنے دلائل دینے شروع کئے کہ جناب ! جب حضرت عیسی وفات پا چکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مرزا صاحب مسیح موعود ہیں تو پھر خدا کے مامور کے مقابلہ میں آپ کو اپنی گری چھوڑ دینی چاہیے اور بیعت میں شامل ہونا چاہیئے۔لیکن یہ قدم اٹھانا ان کے لئے بہت مشکل تھا۔اور ہمیں پیر صاحب کا چھوڑنا بہت مشکل تھا۔اسی کشمکش میں 90 ہیں میں نے حج کا ارادہ کیا۔اور اس سفر میں میری ایک عرض یہ تھی کہ اس معاملہ کے متعلق مقامات مقدسہ پر دعا کروں گا۔مجھے بیس دن کراچی ٹھہرنا پڑا کیونکہ ہمارا جہاز لیٹ ہو گیا تھا۔میں جمعہ کی نماز احمد یہ ہال میں جا کہ پڑھتا اور رات دن سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کرتا۔مجھے یاد ہے کہ دعوۃ الامیرا اور ذکر الہی میں نے وہاں ہی کسی احمدی دکاندار سے خریدیں اور سفر حج پر ساتھ لے گیا۔ہاں مرقاۃ الیقین بھی ہر وقت