تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 446
۴۲۶ شامی مسٹر مصطفے احدرہ بھی تھے۔یہ دوست آٹھ دس سال سے زیر تبلیغ تھے۔سالانہ کانفرنس کے موقعہ بچہ انہیں بیعت کرنے کی توفیق ملی اور فارم بیعت پیر کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے ان کے احمدیت قبول کرنے میں شامی احمدی دوست استید حسن محمد ابراہیم صاحب الحسینی کا بھی بہت دخل تھا، الستید حی ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے ۱۹۳۶ء میں مکرم نذیر احمد صاحب علی کو دعوت دی کہ ان کے خرچ پر مینڈے کے علاقے میں تشریف لائیں اور یوی تبلیغ احمدیت کی بنیاد پڑی چنانچہ بعد میں ایک جانات کے سوا سب جماعتیں اسی علاقہ میں قائم ہوئیں۔جماعت احمد یہ سیرالیون کی چھٹی سالانہ کا نفرنس مورخہ ، ار دسمبر کاء کو شروع ہو کہ ۱۹ار دسمبر کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔کانفرنس حسب معمول جماعت کے مرکز بو میں منعقد ہوئی۔ملک کے طول و عرض سے احمدی احباب شرکت کے لئے تشریف لائے مختلف مذہب و ملت کے متعدد احباب بھی اس میں شامل ہوئے۔تین دن کی کانفرنس میں گل چھ اجلاس ہوئے جس سے مندرجہ ذیل مبلغین اور مخلصین نے خطاب فرمایا۔مکرم نذیر احمد علی صاحب امیر جماعت ہائے احمدیہ سیرالیون۔مسٹر ابوبکر معلم مدرسہ احمدیہ ہو۔مسٹر موسی سودی لوکل مبلغ۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری۔مولوی محمد صدیقی صاحب شاہد گورداسپوری مسٹر علی رو جوز - مسٹر الفا شریف صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ہو۔الفا محمد ادریس۔الفاشیخو بنگورہ مسٹر محمد ہونگے ہیڈ ماسٹر احمد یہ سکول رو کو پر۔کانفرنس کے ایک اجلاس کی صدرات پیرامونٹ چیف الحاج المامی سوری پریزیڈنٹ جماعت ہائے احمد یہ سیرالیون نے کی۔کانفرنس میں ایک مشاورتی کا نفرنس بھی ہوئی۔اس موقعہ پر ۴۵ احباب نے ڈیڑھ ڈیڑھ ماہ تبلیغ کے لئے وقف کیا اور ایک عربی اور دینی سکول یو میں کھولنے کا فیصلہ ہوا۔تحریک جدید دفتر دوم کے نئے سال کے چالیس پونڈ کے وعدے ہوئے جن میں سے ۳۳ پونڈ نقد ادا کئے گئے اسی طرح بو جماعت کے پریزیڈنٹ مسٹر الفا شریف نے لوکل مشن کی مالی حالت کو سدھارنے کے لئے ایک ہنگامی اپیل کی جس پر ایک سو تیس پونڈ کے وعدے ہوئے جن میں سے ساٹھ پونڈ نقد ادا ہو گئے ایک کانفرنس میں ۳ ہم جماعتوں کے ۲۰۰ نمائندوں نے شرکت کی اور کانفرنس کے انتظامات اور جہمان نوازی میں جماعت احمدیہ ہو الفضل ربوه - ۲۱ جنوری ۳۰ مارچ ۵۵ء مت